ہجر کی رت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے

ہجر کی رت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے
دل، خسارے سے ثمربار بھی ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے فقط دشت میں وحشت ہو میاں!
یہ تماشا سرِ بازار بھی ہو سکتا ہے
دکھ، پرندوں کی طرح شور مچا سکتے ہیں
ہجر، پیڑوں پہ نمودار بھی ہو سکتا ہے
میری ہر رات کو فردوس بنانے والے!
دل، ترے خواب سے بیدار بھی ہو سکتا ہے
یہ ضروری تو نہیں سامنے کھل کر آئے
میرا دشمن پسِ دیوار بھی ہو سکتا ہے
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے