ہائی وے مَین اور آبشاروں کی ملکہ

ہائی وے مَین اور آبشاروں کی ملکہ
(Highway man aur Aabshaaron Kee Malika)
ذرا اپنی رویال کیرج کے پردے گراؤ
تمہاری جھلک دیکھ لی ہے مگر
یہ تو کافی نہیں
میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں
کہ نزدیک سے
اور گہرائی میں
کون سے چاک پر تم بنائی گئی
کس خدا نے تراشہ تمہیں
کون ہو تم؟
کوئی کاف کی شاہ ذادی
حسیں وادیوں کی گلہری
کہ پھر رقص کرتی ہوئی مورنی
جل پری کی سہیلی
چٹانوں سے پھوٹی ہوئی آبشاروں کی ملکہ
حقیقت ہو یا پھر
کوئی خواب ہو تم
صحیفوں سے بہتی ہوئی آگ ہو تم
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے