ہر سمت غمِ ہجر کا طوفان ہے محسن

ہر سمت غمِ ہجر کا طوفان ہے محسن
مت پوچھ کہ ہم کتنے پریشان ہیں محسن

ہر چہرہ نظر آتا ہے تصویر کی صورت
ہم شہر کے لوگوں سے بھی انجان ہیں محسن

جس شہرِ محبت نے ہمیں لوٹ لیا ہے
اُس شہر سے ابھی مجھ کو امکان ہے محسن

کشتی ابھی اُمید کی ڈوبی تو نہیں ہے
پھر کیوں تیری آنکھوں میں یہ طوفان ہے محسن

کر اُن کا ادب رکھ اُنھیں سینے سے لگا کر
یہ درد یہ تنہایاں مہمان ہیں محسن

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے