ہیلو

صبح کاذب ہے
فضا میں جگنوؤں کی روشنی کا شائبہ ہے
اور زباں پر کچے پکے خوابچوں کا ذائقہ ہے
یہ سُہاناوقت جس میں
سبز آنچل اوڑھ کر چلتی ہَوا بھی
خوشبوؤں کے دامنوں پر پاؤں رکھتی اور
درختوں کے دھُلے پتّوں، شگفتہ ٹہنیوں سے راز کی صورت گزرتی جا رہی ہے، یہ سہانا وقت تجھ سے گفتگو کا وقت ہے لیکن ابھی تک فون کی گھنٹی پہ اک سنگین خاموشی کا پہرہ ہے
گھڑی کی سوئیاں سینے میں خنجر کی طرح چبھنے لگی ہیں
وقت کانٹے کی طرح حلقوم میں اٹکا ہوا ہے
اک ’’ہیلو‘‘
ہاں۔ ۔ ۔ لذتِ احساسِ قربِ یار میں ڈوبی ہوئی
بس اک ’’ہیلو‘‘ سننے کی خاطر جسم و جاں کا ہر
مسام اب منتظر ہے
لیکن اے جانِ جہاں کیوں خامشی ہے؟
کیوں یہ دھڑکن سینۂ خالی کی محرابوں میں
ٹیلی فون کی گھنٹی کی صورت تھم گئی ہے
کیوں تمھارے ہاتھ کی پوروں تک آ کر
بات کرنے کی تمنّا جم گئی ہے
ان گلابی پتیوں جیسی سبک پوروں میں
مجھ سے بات کرنے کی تمنّا کو جگا، ڈائل گھما جاناں! کہ سینے میں کہیں اٹکی ہوئی دھڑکن چلے، گھنٹی بجے پھر دیر تک اور دُور تک سرگوشیوں میں شبنم و خوشبو میں
تر ساون گرے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے