ہیں خواب میں ہنوز

ہیں خواب میں ہنوز

آئینہ آئینہ کو نہیں دیکھ سکتا ۔ آئینہ میں تو غیر آئینہ ہی نظر آتاہے ۔ مگر جس دن رحمتِ خداوندی نے مجھ گنہگار،بندۃ خاک بسر کو جہانِ دیگر میں ایک عطافرمایا ،آسمانی چھت ،

آسمانی دیواروں ، آسمانی دروازے اور آسمانی کھڑکیوں والا عین اسی دن جسمانی دیواروں سے ای کدایک دیوار پر آویزاں ،ایک عجب آئینہ میں معاً نورالدین زنگی کا چہرہ نظر آیا ۔ سبحان اللہ!اہلِ ایمان کے تذکرے میں نورالدین زنگی کی جو شبیہہ بیان کی گئی ہے ،وہی سو فیصد آئنیہ میں جھلک ررہی تھی ۔ بس کیا تھا!برسہا برس بے چین روح سے جس ایمان کو علاقہ تھا ،وہ دیکھتے دیکھتے آپ ہی آپ تازہ ہوگیا ۔ آخر تتھا گت نظموں میں شاعر نے بہ حیثیت آنندگوتم بدھ سے کیسے کیسے ایمان پرور سوال کیے اور ہر سوال کا جواب حسب توقع ہی ملا ۔ گویا ایمان اورعشق ایک دوسرے کے باطن میں شریک تھے ۔

بس ایک ہی کردار ،المناک مجسّم ،وہ جویگوں یگوں سے پر َ شوُ رام رشی کے شراپ سے پتھر بنی ہوئی اہلیا شری رام چند ر جی کے پگ اسپرش سے جی اٹھی تھی۔۔۔اب وہ محض حیران وپریشان کھڑی تھی ۔ کیونکہ وہاں سے تو دیومالا نے کچھ نہیں بتایا کہ پھر کیا ہوا ،آخرجی اٹھنے کے بعد اہلیا کسی دِشا کو گئی !مگر یہ بھی تلاشِ بے نیازانہ کیا کم تھی کہ اگر میں ایک نامعلوم یگ کی ناری اہلیا کو خیال ہی خیال میں زمین کرسکتا تو یہ دوسروں کی نظر میں نہ سہی ،میری نظر میں میرے حصہ کا سوادِ اختیار تو ہوتا ۔ آخر اہلیا نے شری رام چندر جی کے یگ میں آباد کسی انسانی آبادی کا ہی رخ کیا ہوگا!کسی پروُش سے اس کی بھینٹ تو ہوئی ہوگی !یہاں سے اگر نری کلپنا میں کچھ یواں ہوا ہو کہ وہ آدرش پرو ش کو;234;ئی اور نہیں تو میں ہی رہاہوں گا ۔ آخر کلپنا میں ہونے کو کیا نہیں ہوتا!سو،کچھ یوں ہوا ہوگا کہ میں اہلیا کے خواب میں اور اہلیا میرے خواب میں در آئی ہوگی !پھر انفاس کی یکجائی یا سنجوگ کے سوا اور کیا ہوگا !لوگوں نے سن ہی تو رکھا تھا کہ کاکیشیا(قدیم کوقاف ) کے علاقہ میں پائی جانے والی خوبصورت عورتوں تک رسائی بڑی دشوار رتھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئے پری کا تخیل کیا گیا ۔ حسن بانو سے محض وصل کے لئے منیر شامی کے حق میں ناممکن مہمات سر کرنے والے حاتم طائی کو ایک موقع پر جوں ہی کسی پری کی صحبت میسر آئی تو وہ ذرا بھی چوکا نہیں اور کسی ایک ہی پری پر کیا موقوف، شہشناہِ سخاوت نے کئی پریوں سے صحبت فرمائی ۔ بیچ اس مسئلے کے کیا فرماتے ہیں علمائے جمالیات۔۔۔کہ میرے گاءوں میں ایک نوجوان جو اپنے مکان کی کھلی چھت پر رات کو سورہاتھا، اس دوران آسمان سے پریوں کا کھٹولہ اترا اور سوتے ہوئے نوجوان کو اپنے ساتھ اڑالیے گیا۔۔۔تب سے برسہابرس گزرگئے ،قیاس سے کہا جاسکتاہے کہ نوجوان مذکور پرستان میں پریوں کی صحبت میں انگور کھارہاہوگا ۔ کیونکہ وہ انگور کھانے کا بہت شوقین تھا،بدقسمتی سے ضلع بلیا کے علاقہ میں انگور سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا اور سنتے تھے کہ پریوں کے علاقہ میں انگور بہ کثرت پیداہوتا ہے ،پھریہ کہ پریا ں جس کسی آدم زاد کو پرستان لے جاتی ہیں ،اسے جی بھر کے انگور کھلاتی ہیں ۔ مگر افسوس!میری ہوس شکمی نہیں ہوئی ۔ اور تب میں بہت بعد کے معلوم زمانے میں گول کنڈا کے قلعہ کی اس روش پر چل رہاتھا،جس سے ذرا فاصلہ دے کے ایک خشک تالاب دکھائی دیاتھا،اس کی طرف اشارہ کرکے گاءڈ نے بتایاتھا کہ اورنگ زیب کے لشکریوں سے اپنی روایت بچانے کے لئے مفتوح فرما رواکی حر م سرا کی شہزادیاں اوران کی کنیزیں تالاب کے ڈوب مرنے بھر پانی میں پانی میں ڈوب مری تھیں ۔ یہ سن کے پتہ نہیں بے اختیار میرے منہ سے یہ فقرہ کیوں ادا ہواتھا’’نہیں نہیں ،انہیں اس طرح ڈوب مرنے کے بجائے ہمارا انتظار کرنا چاہیے تھا ۔ ‘‘

لاحول ولا قوۃ۔۔۔ یہ تو صریحاً مجھ میں حمق کی انتہا تک گناہ کی خواہش ہوا کرتی تھی ۔ لعنت ہو مجھ پر کہ میں اپنے خواب میں نورالدین زنگی کی شبیہ کے مماثل یوتے ہوئے بھی مماثل نہیں تھا ۔ اور کوئی اتفاقیہ مماثلت بھی تھی۔۔۔تو میں بالکل اس کا اہل نہیں تھا ۔ یہ اور بات تھی کہ اوائل عمری میں میرے صوم وصٰلواۃ سے اٹے خاندان نے فجر اور عشاء کی نماز اداکرنے کی میری اتنی نیند دشمن تربیت کی تھی کہ میں اس سے خواب میں بھی روبہ گردانی نہیں کرسکتا تھا ۔ پھر بھی سرشت کے کسی حصہ گنہگار ہونا بھی مقدر تھا ۔

گزرتے ہوئے وقت کی کسی سطح پر لکھا ہواچلا آتاتھا کہ میرے گناہوں میں ابرہہ کے کچھ ہاتھی بھی شامل تھے اور میرے حصہ کے کعبہ کو بچانے کے لئے ا اللہ تعالیٰ نے کچھ ابابیلیں بھیجی تھیں ۔ بلکہ ان کی چونچ سے کنکریاں میری طرف کے ہاتھیوں پر آگری تھیں ۔ بے شک ان کی تباہی وبربادی کی آواز میرے قلب تک پہنچی تھی ۔ تبھی مجھ پر منکشف ہواتھا کہ دنیا کے ہر آدمی کے حصہ کے کعبہ کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ ابابیلیں ضرور بھیجتاہے ۔ جی ہاں !یہ ایک خیال تھا ۔ خیال ہی تو تھا کہ معاً میرے باطن میں گونج گیا اور ایک عجب کوند ہوئی ۔ تبھی غیب سے کوئی باور کرارہاتھا ۔۔۔اٹھو ! ۔۔۔نورالدین زنگی اٹھو۔۔۔اٹھو ۔۔۔کہ ہماری کائناتِ دل پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔اٹھو۔۔۔کہ آج پھر سرنگ کھودی جارہی ہے ۔۔۔

یہ سننا تھا کہ نورالدین زنگی نے میری طرف اور میں نے نورالدین زنگی کی طرف ایک نظر دیکھا ۔ دونوں نے بہ یک وقت توبہ استغفار پڑھی اور ابھی درود ختم ہی ہوا تھا کہ آئینہ میں یا آئینہ سے نورالدینزنگی کی شبیہ اوجھل ہوگئی ۔ اس کی جگہ دوبارہ مجھے اور صرف اپنا چہرہ نظر آیا ۔ گویا میں نے بار بار کے دہرائے ہوئے ،تکرارِنفس سے اٹے ہوئے اس جہان کوچھوڑ دیا،جس میں خاک بسری کے لئے فقط دو گز زمین مطلوب تھی ۔ یوں ایک طرح سے اچھا ہی ہوا ۔ دل وجان پر کئی معصوم قرض باقی تھے ۔ گویا اندوہِ وفا سے چھوٹے ۔ اور اب تو کچھ دیر نہیں رہ گئی تھی ۔ فقط اتنا ہی انتظار تھا کہ کب ایمان ،عشق کو اور عشق ایمان کو لبیک کہے او رسوئے دیارِایمان قصدِ سفر کرے گویا عشق ہی عشق تھا اورایمان ہی ایمان تھا ۔ سوائے اس کے کہ آواز سے آوا ز تک کے سفر میں پرندے کے پر نوچ لئے گئے تھے ۔ ایسے میں گراہم بیل کی روح کچھ بھی تو نہیں کرسکتی تھی ۔ آپریٹر کو برقی نظا م کی چوری میں شریک ہونے کا مواد کیا ملاتھا کہ وہ دنیا کے مختلف مردوں سے بہ یک وقت ایک فریکوئسنی پر ایک ہی جیسا مکالماتی تبادلہ بڑی مہارت سے کررہی تھی ۔ یہاں تک کہ اس تشکیک کے لئے بھی رسائی ممکن نہیں تھی،جو دوردراز سے محض حیل وجت اور قیل وقال کی اساس پر حریفانہ و رقیبانہ طرح طرح کی صنعتیں قائم کرنا چاہ رہی تھی ۔

سوائے اس کے کہ واءٹ گولڈ کو اب سورۃ رحمن کی کلیدی آیت (فبای الاء ربکما تکذبن یعنی تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاءوگے ) میں شامل کرنے سے تامل تھا اور پروردگار کی بخشی ہوئی برکات وفیوض میں سے راست کچھ قبول کرنے میں تذبذب تھا ۔ کیونکہ کیمپ ڈیوڈ کی طرف سے اجاز ت نہیں تھی اور خیال رہے کہ اس میں حج کی آمدنی بھی شامل تھی ۔ پھر ساری معیشت کہاں جارہی تھی!یہ جاننے کی جرات کیسے ہوسکتی تھی !سوچ کی کسی انتہا پر آدمی کے دل ڈھونڈنا محال تھا ۔ کیونکہ آدمی کا دل فقط آدمی کا دل تھا ۔ پھر بھی اس اندیشہ نے مجھے گھیر رکھا تھاکہ اگر میں نورالدین زنگی کے ہمراہ کائناتِ دل تک پہنچ بھی جاءوں ۔ تب بھی کیا ضروری ہے کہ میری جراتِ ایمانی کو لبیک کہا جائے ! لیکن یہ کیا ظلم وستم مقدر کیا گیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے بے امان ایلِ ایمان کو پورے دیارِ ایمان میں سرے سے شہریت ہی نہ دی جائے ۔ بلکہ اسے حقارت سے ’’مسکین ‘‘پکار اجائے ۔ خلاف اس کے امریکی کو ’‘خواجہ ‘‘کے لقب سے نوازا جاے ۔ پھر کون نہیں جانتا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے یہودی کے پورا اسرائیل امان مقرر کیا گیا ۔ مگر میری مٹی میں کون سی کھوٹ شامل کی گئی کہ نور الدین زنگی کے مماثل شبیہہ میسّر بھی آئی تو اس خواب کا لحاظ نہ کرکے قصد سوئے دیارِ ایمان میں قدغن لگائی گئی ۔ میری جیب میں اقامہ نہیں تھا ۔ مگر سامنے ہاتھ میں کوڑا لئے کھڑا تھا وہ شرتا۔۔۔کہ جو دلِ انسانی کا سب سے بڑا دشمن تھا ۔

ہر چند کہ دنیا کے ہر دور کے ہر اس خرابہ میں کہ جوملوث ہوس اقتدار تو ضرور رہا ہوگا اور جواب بھی ہے، اس کے تاریک قانون کی تاریکی میں مبتلا کسی بھی گنہگار وخطا کار کے گناہ وخطا کے سچ کو جانے بغیر اس پر حد جاری کی جاتی رہی ہے ۔ گویا اگر سوئی کے ناکے میں دھاگہ جاتے ہوئے دو گواہ صادق اور مین مل جاتے تو مجھ پر بھی حد جاری ہوسکتی تھی ۔ مگر قصور تو سراسر دنیا کا تھا کہ ہر دور میں میرے حصہ کی عورت کومیرے لئے جائز قرار نہیں دیا گیا ۔ اسے مجھ سے دور دور رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ ۲۳ سال کی عمر کو پہنچ کے ایک عورت نظر میں آئی بھی ۔ ۔ ۔ ۔ تواس طرح کہ جغرافیہ کا نصف حصہ دن کی بیداری میں تھا اور نصف حصہ رات کے خواب میں ۔ بیداری والے حصہ میں دستگیر کالونی کا نو نمبر تھا ۔ اس کے آس پاس ہی تو میں کہیں دو تین ٹیوشن کیا کرتا تھا ۔ جبکہ مذکور عورت کا مکان نونمبر بس اسٹاپ والے راستے پر ہی کہیں آس پاس واقع تھا ۔ ایک احاطہ دد منزلہ بیرک نما سادہ تعمیر میں شامل تھا ۔ وہ ہلدی رنگ سے پُتی ہوئی دیواریں تھیں اس کی ۔ اور چار زینے بھر آدھار پر صاف ستھری بیٹھک میں اجلی چادر بچھایا ہوا تخت رکھا ہوا تھا۔۔۔کہ جس پر خاتونِ یادداشت دعائیہ آسن میں بیٹھی ہوئی اپنے طبعی وجود سے تو بہ یک وقت دبیز اور سبک لگتی تھیں ۔ اس دبیز اور سبک کے درمیان گمان میں ایک زعفرانی لکیر کھنچ آتی تھی ۔ اور ٹھیک یہیں سے جغرافیہ کے نصف رات کا خواب والا حصہ دن کی بیداری والے حصہ سے منقطع ہوجاتا تھا ۔ مخالفینِ زندگی کی پوری پوری کوشش ہوتی تھی کہ میں کبھی اس زعفرانی لکیر تک نہ پہنچ سکوں ۔ جو انزال اور موت کے لطفِ دوام کو یکجا کرتی ہے ۔ اگر ایسا ہوسکتا تو میں بھی کچھ پل اکابرین کے تجربوں کا اہل ہوجاتا ۔ مگر افسوس کہ دستگیر کالونی کے نونمبر والے ٹیوشن چھوٹ گئے ۔ البتہ آدمی کے خاندان میں اضافہ کے لئے یا زعفرانی لکیر کے نعم البدل کے طور پر میری شادی ایک ایسی گھریلو عورت سے کردی گئی ،جس نے مجھے ایک سال تک بیداری اور خواب دونوں حصوں سے بے نیاز رکھا ۔ بلکہ اس کے بطن سے میرے بیٹے نے جنم لیا ۔ مگر میرے بیٹے کے جنم سے ٹھیک تین ماہ بعد ایک رو ز دستگیر کالونی کے نونمبر والا وہ مکان کہ جس میں خاتونِ یادداشت رہا کرتی تھیں ،اچانک یاد آیا ۔ بس کیا تھا چل پڑا اس طرف کو ۔ نونمبر کے بس اسٹاپ پر اتر کے گذشتہ نشانیوں میں ،جو کچھ یاد رہ گئی تھیں ،ان پر اپنی دانست میں نظر کرتے ہوئے اس احاطے اور بیرک نما مکان کو بہت ڈھونڈا ۔ مگر وہ دکھائی ہی نہیں دیا ۔ تبھی خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وقفہ گذشتہ دوران نوآباد شہری تعمیرات میں آئے دن کے اضافے نے میر ی مطلوبہ جگہ کو نکل لیا ہو ۔ تاہم ابھی تو تلاش شروع ہی کی تھی ۔ ممکن ہو،ایک بار کی کوشش اتنی جلدی سپبھل نہ ہو ۔ توکیوں نہ دوبارہ بلکہ بار بار اس طرف آکے پورے دھیان سے جگہ مذکور کو تلاش کیا جائے ۔ شاید کسی ایک نشانی سے وہ نظر میں آجائے یا کوئی شناسا مل جائے ۔ جو خاتونِ یادداشت کے بارے میں کچھ جانتا ہو کہ مبادہ وہ نقل مکانی کی دھند میں کہیں جاچھپی ہوں ۔ سو،بعد اس کے میں نے دوبارہ بلکہ بار بار دستگیر کالونی کے نونمبر کے آس پاس کو نہارا ۔ مگر کسی طرح بھی سپھلتا نہیں ملی ۔

ٍآخر ایک گمان لمس سے ذہن کو بھاپ سی لگی ۔ یعنی بھیتر کچھ نم نم ہوا۔۔۔کہ ممکن ہو،ای سال قبل اس جگہ مذکور اور خاتونِ یادداشت کو میں نے کسی خواب میں دیکھا ہو یہاں مجھے کئی بار یہ بھییاد آیا کہ کاش اس نوعیت کے خواب پر میرا اخیتار ہوتا ۔ جب چاہتا میں اسے اپنے حصہ کی بیداری میں منتقل کرلیتا ۔ یعی اپنے متہائے آرزو کو پالینا یا ہائے حسرت، وائے حسرت!اگر میں اپنے عہد کی ملکہ سبا کی خبر لانے والا ہُد ہُدہوتا ۔ اس کے غسل خانے میں اسے غسل کرتے ہوئے دیکھ پاتا ۔ یہاں تک کہ اس کی پنڈلیوں کے بال گن سکتا۔۔۔تو اللہ اللہ کس شان کامالک ہوتا،مگر شاید یہ پیش خیمہ تھا،سوتیلی ملک کے ملک میں رہنے کا۔۔۔عدم محفوظ سکوننت کا ۔۔۔کہ اب میرے انتہائے باطن میں کائنات بھر کی اچھی سی اچھی سوچ کا حشر خراب ہونے کوتھا۔۔۔جبکہ سگی ماں کے دیس سے مجھے اس لئے نکالدیا گیاتھاکہ بھولے بھٹکے اتفاق کی برکت سے میسرآئی سلمیٰ میری دلہن تو بن گئی مگر حجلہ عروسی میں قدم رکھتے ہی کچھ ایسی افتاد کا سامنا آپڑا کہ اظہارِ عروسانہ کی بجائے سلمیٰ نے مجھ دولہا کے مقابل بہ انداز بہادر یار جنگ ،سلطان صلاح الدین ایوبی کی شان میں بڑی جوشیلی تقریر کی ۔ اور مزید مجھے مخاطب کرتے ہوئے زرہ بکتر کے زمانے کے جنگجو مرد کے تازہ تازہ میدانِ جنگ سے لوٹنے اور اس کے زخمی سینے سے کہ جس سے خون ٹپک رہاتھا،بے اختیار لپٹ کے اس پر دیوانہ واربوسہ ثبت کرنے کی جراَت بیان کرڈالی ۔ اس مزاح اور دہشت کی یکجائی پر پہلے تو میں بہت حیران ہوا ۔ پھر ہمت کرکے میں نے دلہن سلمیٰ پر ظاہر کیا کہ میں بھی کسی بڑی جنگ سے تازہ بہ تازہ گھائل لوٹا تھا مگر میرا سینہ تو اندر ہی اندر زخمی تھا اور اندر ہی اندر خون بھی ٹپک رہاتھا ۔ پھر بھی اکارت گیا ایک دوسرے کا کہنا سننا ، سوائے اس کے کہ کفر اور ایمان کے درمیان معلق لذت وصل رہ گئی تھی کھرونچی ہوئی!گویا دولہاکی تجرید دلہن کے کان کی لوَ کے بہت پاس سے گزر گئی ۔ کیونکہ ایک طرف تو تھا اشوک چکر۔۔۔تو دوسری طرف چاند تارا ۔ مگر یہ معلوم ہوسکا ۔۔۔کہ۔۔۔

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کیونکہ دل تو سداما کی کچے چاولوں والی پوٹلی میں کھا ہوا تھامگر افسوس کہ بھگوان کرشن تک یعنی مِتر کی مِتر تک رسائی سے پہلے یا بعد میں بیچ راستے ڈاکوءوں نے اس کی پوٹلی چھین لی تھی ۔ پھرخیال ہی خیال میں وہی زمین تھی کہ اس پر کتنی صدیاں گزر گئیں اور میان میں وزارتِ اطلاعات کے وزیرِ موصوف کے سیکریٹری کی بیورکریسی حائل تھی۔۔۔اور ایسے ایسے پروٹوکول تھے کہ خدا کی پناہ!تب کہیں جاکے مولانا تجمل حسین کے مکتب میں میں نے پہلی اور آخری بارلفظ’’لیلیٰ‘‘کے مفہوم پر غور کیاتو بہت دن تک سُداما اور اس کے دل سمیت کچےّ چاولوں کی پوٹلی کی بازیافت نہیں ہوسکی ۔ وزارتِ اطلاعات کے وزیر کے سیکریٹری سے تو کہیں زیادہ فرعون تھا اس کا چپراسی ۔۔۔کہ اس نے سداما کو اندر کی جوابی توجہ یا عدم توجہ دونوں سے بہ یک وقت محروم رکھا ۔ جبکہ اس سے ذرا آگے ہی تو اگلے برس کا پڑاءو تھا اور شہرِ اجل تھا مگر یہ شہرِ اجل بھی کیا شہرِ اجل تھا۔۔۔کہ جہاں بہت پہلے سے اپنے طرز کی مابعد الطبیعیاتی ایجنسی قائم تھی ۔ بعد کے حالات میں تو یہ بھی مقر ر ہوا کہ آدمی اور جانور کی لاش سے آب وگل تمام آلودگی تک روح مقدس کا گزرنا ممکن ہوا ۔ سوائے عالم تمام کی آلودگی سے بڑھ کر اس آلودہ باطن کے وزیرِ مملکت ہونے کا۔۔۔کہ وہ ہمارے زمانے کے اشو میدھ یگیہ میں حصہ لینے جارہا تھا ۔ تاکہ قبل از وقت ہی کولمبسکی دریافت سے عبرت پکڑنے والی ہر روح ،یعنی اچھی یا بری روح کی حشر سامانی میں اضافہ ہوتارہے ۔ تاہم کسی حال بھی ڈالر کی قیمت میں کمی نہ ہو ۔ خواہباقی تمام کرنسیوں کا زوال ہی کیوں نہ ہوجائے!

میں اسی دن اللہ کے نور سے مستعار لے کے اپنا نام نوراللہ پیاری بیٹی نورین کا نکاح سوتیلی ماں کے ملک کی مسجدِ ویران کے فرشِ سیاہ سے ہونے جارہاتھا ۔ یہ فرشِ سیاہ اتنا طویل وعریض سے تھاکہ جس کا کوئی سرا سرے سے دکھائی نہیں دیتاتھا ۔ پنج وقتہ نماز اداکرنے والے نظر نہیں آتے تھے ۔ البتہ کوئی پیش امام ہواکرتاتھاوہ بھی کبھی اپنے حجرے سے باہر نکلتے ہوئے نظر نہیں آتا تھا ۔ یہاں تک کہپانچوں بار موذن کی اذان بھی نہیں سنائی دیتی تھی ۔ اس کے باءوجود مسجد کے مسجد ہونے کا تاثر ہر خاص وعام پر قائم تھا ۔ یہ اسرار سمجھ میں نہیں آتا تھا،جیسا کہ بیا ن کیاجاتاتھاکہ اس کا سبب مسجد مذکور کی ایک انتظامیہ تھی ،جو ماتحت تھی عدم کی ۔۔۔اور عدم کی ہدایت پر ہی مسجد سے ملحق کرایہ کی دکانوں میں مسواک،تسبیح،شہد ،زیتون،چٹائی اور کفن وغیرہ پر مشتمل اشیاء وافر مقدار میں مہیا تھیں ۔ مگر کسی بھی دکان پر دکاندار نظر نہیں آٹا تھا ۔ جبکہ خریدار کچھ نہ کچھ خریدتے ضرور نظر آتے تھے ۔ مثلاً بیان کیاجاتاہے کہ نوراللہ اپنی بیٹی نورین کے ہمراہ اس کی شادی خریدنے آئے تھے اور نکاح کی تاریخ مقررکرنے سے پہلے بھی وہ مسجد کے آس پاس نظر آئے تھے ۔ مگر وثوق سے نہیں کہا جاسکتاکہ نورین کی شادی کیسے خریدی گئی اور فرشِ سیاہ سے اس کے نکاح کے دوران نوراللہ کے دل پر کیا گزری !کیونکہ ان کی باقی زندگی کے شواہد سے تو یہی مفہوم ہوا کہ وہ نورین کی رخصتی کے بعد آخری حج کو چلے گئے ۔ پھر ایک عجب اتفاق ہوا ۔ ایک روز میرا گزر سخی حسن کے قبرستان سے ہوا۔۔۔تو لاتعداد قبروں کے سکوت وہنگام سطری منظر میں محتاط قدموں سے راہ بناتے ہوئے اور کتبے پڑھتے ہوئے میں نے ایک قبر پر ذرادیر کی سکوت ن;180;ظری کی ۔۔۔توکیا دیکھتاہوں کہ قبر کے کتبے کی الٹی طرف جلی حروف میں کندہ تھا ۔۔۔’’نورین بیٹی ڈرنا نہیں ‘‘۔۔۔آہ! جس نے یہ عبارت لکھوائی ،اس کے دل پر کائنات بھر کی حسرتیں برس رہی ہوں گی ۔ بہ یک وقت بارش اور آگ سے تعمیر کی گئی حسرتیں اورتہذیبِ غم کے باءوجود میری آنکھیں آنسوءوں کا مجموعہ بن گئیں ۔ میرے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ ممکن ہو،یہ عبارت نورین کو بہت پیار کرنے والے نوراللہ نے ہی لکھوائی ۔۔۔کہ جس پیاری دلاری بیٹی کی پرورش دن کے سایہ دار اجالے میں اوررات کی رنگ برنگی برقی روشنیوں کے درمیان ہوئی ۔۔۔کہیں وہ قبر کے گھپ اورجکڑ بند اندھیرے میں ڈر تو نہیں رہی ہوگی۔۔۔اور جو اتنی سادہ اور معصوم تھی کہ کسی گناہ کا تصور نہیں کرسکتی تھی ۔ کہیں یونہی بے سبب ہی اسے نکرین عذابِ قبر تو نہیں دے رہے ہوں گے ۔ اسی لئے اسے ڈھارس بندھانے کے لئے یہ عبارت کندہ کی گئی ہو۔۔۔’’نورین بیٹی ڈرنا نہیں ‘‘۔۔۔ساتھ ہی یہ بھی گمان میں آیا کہ ممکن ہو،نوراللہ نے اپنی مرحومہ بیٹی نورین کی پُر ہول تنہائی دور کرنے کے خیا ل سے اس کی روح کو قبل از وقت باور کرایا ۔۔۔کہ ’’نورین بیٹی ڈرنا نہیں ۔۔۔ میں بھی جلدہی تمہارے پاس آنے والا ہوں ۔۔۔اب تم اکیلی نہیں ہوگی ۔ ‘‘

یہ جان کے مجھے یوں لگا کہ گویا کوئی بھی قبر دراصل قبر نہیں ہوتی بلکہ اس سے وابستہ یادوں کا دل ہوتی ہے ۔ اور عاشق کا دل کسی خیال کومُردہ تسلیم نہیں کرتا ۔ آدمی کی محبت، خیال کے بغیر زندہ بھی تو نہیں رہ سکتی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھلا’’وامق عذرا‘‘ کی داستانِ عشق کے اختتام پر جب عذرا جیتی نہ رہی تو وامق نے اُسے مُردہ تصور کیوں نہیں کیا!وہ تو اسے دیعانہ وار اپنے سینے سے چمٹائے آباد ویران راستوں پر بھٹکتا پھرتاتھا ۔ آخر ایسا کیوں ہوا کہ خیال کو خیال سے ہی نسبت تھی،سوائے اس کے کہ ایک فرضی فاصلہ تھا،جو ہزار میل کے درمیان افق بنارہاتھا اور ایک میل پر رکھے اُفق سے اگلے میل پر رکھے ہوئے فق تک اور اس کے بعد کے افق تک جو نادیدہ تھا ،وہی دیدہ بھی تھا ۔ اور اگر اتفاق سے کسی انجانے موڑ پر ہمارے زمانے کے قیس کو اس کی لیلیٰ کچھ پل کے لء مل بھی گئی تو اس سے مل کے وہ بھلا کس واپسی کی راہ سے واپس ہوگا، آخرایک پیر دانا نے یہ کیوں کہا تھا کہ باطن کو چھپاءوورنہ اسے کتّے نوچ کھائیں گے ۔ کیا پتہ کسی راہ پر کوئی غفلت سرزد ہوجائے اور باطن ظاہر ہوجائے ۔۔۔تبھی اسے کتّے نوچ کھائی ں !پھر اتنا محتاط کون ہوسکتاہے کہ ہر راہ پر باطن کو بچائے رکھنے کے لئے پیرِ دانا کی دانش کو دھیان میں رکھے !بھلا کون سی راہ بچ گئی ہے کہ جس پر کتّے نہ ہوں !

اسی لئے تو اللہ تبارک تعالیٰ کا بخشا ہوا قلب یہ قبول کرنے پہ قطعی آمادہ نہ تھا کہ دیارِ ایمان میں فقط امن ہی امن ہوگا ،وہاں رات دن فقط مولیٰ کی رحمت ہی برستی ہوگی ! آخر واءٹ گولڈ کی معشیت اور حج کی آمدنی کہاں اور کس کے مصرف میں جارہی ہوگی !کیمپ ڈیوڈ کا سایہ کہیں نہ کہیں تو پڑ ہی رہا ہوگا!

اس لیے تو مجھے رہ رہ کرکائناتِ دل کا خیال آیا کہ مبادا اُس پر عا،لمِ تمامکے لعین و مشرکین،کاذبین اور شیاطین کی آنکھیں لگی ہوں ،کہیں وہ سرنگ کے آخری سرے تک پہنچ گئے ہوں !مگر یہ کیسے ہوسکتاہے !کیا ہماری کائنات زند ہ نہیں ! کیا ہمارا دل زندہ نہیں !پھر ہماری یہ کائنات کیا ہے اور ہمارایہ دل کیا ہے !کیا کوئی قبر اس لئے قبر ہوتی ہے ہے کہ اس پر دفن جسدِ خاکی روشنی، ہوا اور پانی کی کھلی فضا سے بظاہر لاعلم اور محروم ہوتاہے ۔ مگر ممکن ہو ،ایسا نہ ہو ۔ کوئی اور بات ہو، جس علم فقط مالکِ کائنات کو ہو ۔ اس طرح اگر دنیا کی زندگی کے نام پر بندہ بشر روشنی ، ہوا اور پانی کی کھلی فضا کو اپنی اپنی حدِ بساط بھر دیکھ سکتا ہو، محسوس کرسکتا ہو، جان سکتا ہو !تو بس اتنا ہی دیکھنا ،محسوس کرنا اور جاننا اس کا مقدر ہے یا جبروقدر ہے ۔ اس سے ماورا جو وہ نہیں دیکھ سکتا،محسوس نہیں کرسکتا اورجان نہیں سکتا،اس کی نسبت اس کی لاعلمی بھی قبر ہے ۔ گویا بظاہر تما م زندہ بندہ بشر اپنی اپنی لاعلمی کی میں تو دفن ہیں ۔ نوراللہ کی بیٹی نورین سے کرنے والا مسجدِ ویراں کا فرشِ سیاہ بھی دفن ہے ۔ اور اس سے بھی کہیں زیادہ دفن ہے وہ انتطامیہ ،جونہیں دیکھ سکتی اورنہیں جان سکی، اُس بدنصیب باپ کو ، جس سے بھاری تاوان وصول کرنے کی ناکام کوشش میں اس کے پانچ سالہ معصوم بدیم ہلاک کرنے سے قبل چاقو کی کی نوک سے اس کی آنکھیں نکالی جارہی تھیں ۔۔۔کہ گویا قاتل کی دانست میں مقتول بچے کی آنکھیں مبادا س کے عکسِ چاقوسمیت اتار سکتی ہوں ۔ سو، بِن آنکھوں کے مُردہ ننھے جسم کو کچرے کی کنڈی پر ڈال دیا گیا ۔ مگر کچلی مسلی گئی معصوم پُتلیوں کی اپنی روحانی زمین تھی اور ایک اپنا روحانی آسمان تھا کہ وہ چشمِ زدن میں نورالدین کے خواب میں منتقل ہوگئیں ۔ اور ٹھیک یہیں سے تو قاتل تک جلد از جلد رسائی کے لئے ایک نمائندہ عرصہ حیات کو لامتناہی مسافت پر روانہ ہونا تھا ۔ سوبہت ممکن ہو کہ نورین سخی حسن کے قبرستان والی قبر میں دفن ہونے کے بجائے روشنی، ہوا اور پانی کی کی کسی اور لامحدود فضا میں مقیم ہو اور آر پار وہ سب کچھ دیکھتی ہو،جس کے لئے اللہ نے اسے اپنی کائنات میں شریک کرلیاہو!لیچی نام کا خوش رنگ اور دلکش پھل اپنے باطن سے اپنے ظاہر کو آر پار ضرور دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اسے اُگانے والا رب خوب جانتاہے ۔ نہیں جانتا تو بس وہ نہیں جانتا ،جو کچھ جاننا نہیں چاہتا ۔ بظاہر قاتل مطمئن ہوچکا ہوگاکہ اس کے ہاتھ معصوم ندیم کی کچلی مسلی گئی پُتلیاں اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی ۔ مگر اس دوران لامتناعہی مسافت طے ہوچکی ہوگی اور نوالدین زنگی کے ہاتھ اس کی گردن تک پہنچنے ہی والے ہوں گے !پھر یہ ہمارے چوگرد ،یہ دیدہ نایدہ تجربہ گاہیں کیا ہیں !آخر یہ دنیا کو خود اس کی نوفریبی اور تازہ انگاری کے خوش ہراساں کارنامے بار بار بار ساخت بدلنے کی ٹیکنالوجی میں کیوں دکھا رہی ہیں !آخر یہ گہرے گہرے صدموں اور آگھات کی بے اہمیتی کیا ہے !اور یہ کیسی سنگ خوربے حسی ہے کہ کوئی اب یہ بھول کے بھی نہیں بتاسکتا کہ اس پر کس نے ظلم کیا ! کب کِیا! کیوں کیِا اور کیسے کیِا!

اس کا علم مجھے کیوں نہیں ہوا!کیا میں اس وقت عالمِ بیداری میں تھا۔۔۔جب میں نے نورالدین زنگی کے فوراً بعد ہی خود کو آئینہ میں دیکھا !تو اس گھڑی پسِ آئینہ کون تھا، جب غیب سے باور کرایا گیا یا حکم نافذ کیا گیا !کیا وہ کوئی غیر آئینہ تھا

احمد ہمیش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے