ہیں درمیاں میں فاصلے بھی رابطے کے بعد

ہیں درمیاں میں فاصلے بھی رابطے کے بعد
سچ کو چھپا رہا ہے مگر چھاپنے کے بعد
خیرات میں وہ اشک کے لنگر نہیں رہے
آنکھوں کے ہاتھ خالی ہیں اس حادثے کے بعد
تم کو جو میرے حال پہ آتی ہیں شوخیاں
ملنا مجھے بھی ہجر کوئی کاٹنے کے بعد
اس کے بھی پھر نصیب میں الفت نہیں ہوئی
پچھتا رہا ہے وہ بھی مجھے ہارنے کے بعد
وقت زماں کی قید سے آگے گذر گیا
دامن ترے خیال کا میں تھامنے کے بعد
دنیا کی رسم ہے کہ غرض ہے مفاد سے
وہ کاٹ لے گا پیڑ ثمر چھاننے کے بعد
اے کاش مجھ کو تیری بھی یوں دید ہو کبھی
عمر رواں کی حد سے پرے ضابطے کے بعد
پہنچوں گا تیرے پاس تجھے تھامنے کو میں
رکنا کہیں بھی راہ میں دل ہارنے کے بعد
لفظوں سے اس کو کر نہ سکا قائل وفا
معنی سمجھ گیا مری چپ سادھنے کے بعد
دیکھو ذرا یہ غور سے منظر شکست کا
نیزے پہ سر اٹھا کے چلا کاٹنے کے بعد
ماءوں کا حوصلہ ہے کہ لخت جگر کو پھر
مقتل میں پیش کرتی ہیں وہ پالنے کے بعد
ہوتے جو پہلے سے دکھی تو بات تھی الگ
اب خوار ہوں گے کیسے تیرے آسرے کے بعد
خالد اٹھے گا زندگی کا بوجھ کس طرح
سینے پہ اپنے بار گراں لادنے کے بعد
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے