فروری 5, 2023
جاوید مہدی کی ایک اردو غزل

ہزار زخم بدن پر لیے حیات رہے
تمہارے بعد بھی ہم ادھ مَرے حیات رہے

بہت جدا تھا ہمارا مزاج دنیا سے
سو ہم بھی دنیا سے مِیلوں پَرے حیات رہے

وہ جس کا اپنا کوئی چھوڑ کر چلا جائے
اک ایسے شخص کا کیا ہے مَرے ، حیات رہے

مِرا نہیں ہے تو پھر کیا خدا کرے اس کو
کبھی کسی کی نظر نا لگے ، حیات رہے

حیات سب کے لیے ایک سی نہیں ہوتی
سو جس کسی کو مناسب لگے حیات رہے

منافقین کو غارت کرے خدا ، آمین
کسی کے ساتھ جو مخلص رہے ، حیات رہے

جہان بھر میں کوئی اک بھی ایسا شخص نہیں ؟
جو میرے ساتھ مِرے واسطے حیات رہے

خدا کی کرنی جو اچھے تھے جلد مارے گئے
مگر جو لوگ تھے مہدی بُرے حیات رہے

جاوید مہدی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے