ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں

ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں
نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں
جی میں آئے تو کبھی فاتحہ دلوا دینا
آخری وقت ہے ہم تم سے جدا ہوتے ہیں
دیکھیں مسجد ہو کہ مے خانہ ہو پہلے آباد
دونوں دیوار بہ دیوار بنا ہوتے ہیں
دوست دشمن ہیں سبھی بزم میں‌ دیکھیں کیا ہو
کس سے خوش ہوتے ہیں وہ کس سے خفا ہوتے ہیں
پار ہوتی ہیں‌کلیجے سے نگاہیں اُن کی
قدر انداز کے کب تیر خطا ہوتے ہیںداغ دہلوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے