خیالِ حلقۂ زنجیر سے عدالت کھینچ

خیالِ حلقۂ زنجیر سے عدالت کھینچ
عذابِ بارِ نفس ہے تو پھر ندامت کھینچ
ہوائے حرص و ہوس سے نکل کے دیکھ ذرا
ضمیرِ رشتۂ احساس سے ملامت کھینچ
فریبِ عشقِ بتاں سے نکل پئے ناموس
برنگِ خارِ مغیلاں زدشت راحت کھینچ
بنوکِ کلکِ امانت اٹھا لہو دل سے
جبینِ مصحفِ کردار پر صداقت کھینچ
برائے عظمتِ انساں بنامِ کرب و بلا
یزیدیت ہو مقابل تو پھر شجاعت کھینچ
بفیضِ صحبتِ رومیؔ و حافظؔ و بیدلؔ
بمثلِ غالبؔ و اقبالؔ تو ریاضت کھینچ
نہیں ہے سعدؔ پس و پیش عشق و مستی میں
کہا تھا کس نے کہ خود ہی سے یوں عداوت کھینچ
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے