ہے کسی اور ہی مٹی پہ کفِ پا میرا

ہے کسی اور ہی مٹی پہ کفِ پا میرا
کچھ نہیں اس در و دیوار سے رشتہ میرا

نیند آتی ہے کسی اور ہی مسکن میں مجھے
سانس لیتا ہے کہیں اور ہی سایہ میرا

خود کو ہر روز سرِ راہ پڑا ملتا ہوں
پھر کہیں خواب سا ہو جاتا ہے رستہ میرا

جب بھی بے مہری ء شب دل پہ گراں ہوتی ہے
دور اک چھت پہ نکلتا ہے ستارہ میرا

پھر تری پیاس میں لب سوکھنے لگتے ہیں مرے
پھر کسی لہر سے بھر جاتا ہے دریا میرا

کوئی آ کر مجھے ہمرنگِ چمن دیکھے تو
یوں سرِ شاخِ تمنا یہ مہکنا میرا

اب کہاں پر مری وحشت کا قدم پڑتا ہے
دھیان رکھتی ہے بہت تنگی ء صحرا میرا

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے