ہے دردِ ہجراں بہت زیادہ جداٸی کی بھی ہے رات پہلی

ہے دردِ ہجراں بہت زیادہ جداٸی کی بھی ہے رات پہلی
نہ بھول پاٶں میں اس کا چہرہ جداٸی کی بھی ہے رات پہلی
وہاں پہ اس نے ہے لا کے چھوڑا جہاں سے واپس نہ ہو سکے ہم
اُداس راہوں پہ پیار پہلا جداٸی کی بھی ہے رات پہلی
فضا کی سانسیں ہیں ٹوٹنے کو فلک بھی پھٹنے کوہورہا ہے
ہے چاند بھی آج گہراگہرا جداٸی کی بھی ہے رات پہلی
وہ ہونٹ بانہیں نگاہِ ساجن وہ پیار کی سب اداٸیں اس کی
وہ خوابِ قربت ہے آج ٹوٹا جداٸی کی بھی ہے رات پہلی
پہاڑ جیسی یہ زندگی اب کٹے گی کیسے بغیر اس کے
ابھی تو پہلا ہی دن ہے گزرا جداٸی کی بھی ہے رات پہلی
ڈاکٹر الیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے