Hawa Sy Zulf O Ruh Mein

ہوا سے زلف و رخ میں ہے سماں اے یار رونے کا
بندھا ہے شام سے لے تا سحر اک تار رونے کا

خدا جانے کہ آخر رفتہ رفتہ حال کیا ہوئے
ہوا ہے بے طرح آنکھوں کو کچھ آزار رونے کا

ابھی گر لہر آوے گی مجھے تو دنگ ہوئے گا
نہ کر ابر تو آگے مرے اظہار رونے کا

اثر ہوئے نہ ہوئے پر بلا سے جی تو بہلے گا
نکالا شغلِ تنہائی میں مَیں ناچار رونے کا

اسی میں ناخوشی گر ہے تو لے آ بیٹھ مت غم کھا
ترے کہنے سے بس اب میں نہیں دلدار رونے کا

ابھی رو رو کے ٹک آنسو تھمے ہیں میرے اے ہمدم
نہ لا پھر پھر کے تو کچھ ذکر اور اذکار رونے کا

حسنؔ کچھ تو کہا ہے اُس نے تجھ کو میں سمجھتا ہوں
تری آنکھیں تو نم ہیں تو نہ کر انکار رونے کا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے