حوا کی بیٹی

حوا کی بیٹی

اے متاع زندگی تو نے بتا
عورت کو آخر کیا دیا
ابنِ آدم نے اسے پامال کر کے رکھ دیا
کیا حال کر کے رکھ دیا
اس کا جو بھی روپ ہے
عورت یقیناً خوب ہے
بیٹی ہے تو رحمت پروردگار ہے
بیوی ہے تو الفت وایثار کی دیوی ہے وہ
ماں کی صورت پکیر عزم ومحبت
اور پیروں کے تلے جنت لیے
پھر بھی جانے کس لیے
بے حال ہے ،پامال ہے
رب نے فرمایا
کہ اے موسیٰ سنو !
جب میں خوش ہوتا ہوں تودیتا ہوں اکثر بیٹیاں
ابن آدم تو نے بیٹی کی مگرنہ کی ذرا سی بھی قدر
زندہ تو نے دفن بیٹی کو کیا
ایک عورت سے ہی تسکیں گو تجھے حاصل ہوئی
زندگی تو نے اسی کی کس لیے برباد کی
تو نے جس کی کوکھ سے جنم پایا
اس کو تو نے دکھ دیا ابن آدم تو نے کیا یہ کر دیا
یہ بھی اک سچائی ہے
ہاں ! یہی حوّا کی بیٹی ہےیہی ماں بھی تری اور یہی تیری بہن جس کو تو نے آنسوؤں کا خوب نذرانہ دیا
اک کھلوناتو نے بس عورت کو سمجھا
خوش نما لفظوں سے تو نےپہلے دل عورت کا جیتا
پھر اُسے دھوکہ دیا دھوکہ تو پھر دھوکہ ہی ہے
چین سے سونے نہ دے گا تجھ کو تیرا یہ ضمیر
ابنِ آدم یہ خلش تجھ کو بہت تڑپائے گی
تونے عورت کو بھلا اس کے سوا کیا دیا
اس کو فقط رسوا کیا

دعاعلی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے