ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے

ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے
میں خود نہ جاؤں تو اس تک مری خبر جائے

مرے خلوص پہ قدغن لگائیے صاحب
یہ دل وفا کی اذیت سے ہی نہ بھر جائے

تو سنگ ساز تڑخنے سے آشنا ہی نہیں
تری بلا سے اگر آئنہ بکھر جائے

تو کیا میں پیاس کا مارا پڑا رہوں یونہی
تو کیا یہ ابر مرے ساتھ ہاتھ کر جائے

تو کیا یہ خواب کنارے نہ لگ سکیں ارشاد
تو کیا یہ موجِ تمنائے دل اتر جائے

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے