ہوا جیسے کوئی بندِ قبائے نسترن کھولے

ہوا جیسے کوئی بندِ قبائے نسترن کھولے
کوئی تومیرے بالوں سےخزاں دیدہ ربن کھولے
پرندوں کے پروں کو ٹوٹتے دیکھوں تو ٹوٹے دل
مگر جب بھی بہار آئے درِ صبحِ چمن کھولے
مجھے پہلو میں پاکر دیکھے کوئی جنتِ ارضی
کسی سپنے کے بوسے سےجو آنکھیں سیم تن کھولے
ہمارے ساتھ بھی اس نے کئ موسم گزارے ہیں
ہمارے حق میں بھی شاید، زباں وہ گلبدن کھولے
کتابِ دلبری ہم کھولتےہیں اس کے پڑھنے کو
ہماری بالیاں جیسے کوئی پاگل پٙوٙن کھولے
اُسے شک ہے ابھی جاگی ہوئی ہیں خواہشیں میری
اجل رہ رہ کے آئے اور ہر تارِ کفن کھولے
محبت میں اٹھاتے ہیں حلف سب شازیہ اکبر
نجانے کون ہے جو رازِ شامِ انجمن کھولے
 شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے