ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا

ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا
چراغ نکلا وہ طاقِ سحر میں رکھّا ہُوا
کسی جگہ کوئی میرا بھی منتظر ہو گا
اِسی گماں نے ہے مجھ کو سفر میں رکھّا ہُوا
ہوائیں آتی ہیں میرا طواف کرتی ہیں
میں اک دِیا ہوں تری رہ گزر میں رکھّا ہُوا
گئی رُتوں کی کہانی سنا رہا ہے مجھے
خیال سا کوئی طاقِ شجر میں رکھّا ہُوا
میں اپنے فن سے ابھی مطمئن نہیں غائر
یہی تو عیب ہے میرے ہنر میں رکھّا ہُوا
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے