ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو

ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
کس رُخ کی چل رہی ہے ہوا دیکھ کر چلو
زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے
آنکھیں جو ہیں تو راہِ وفا دیکھ کر چلو
آذر کدے کی آنچ سے شہ پا کے یک بیک
صر صر بنی ہوئی ہے صبا دیکھ کر چلو
امسال دیدنی ہے چمن میں جنوں کا رنگ
گُل چاک کر رہے ہیں قبا دیکھ کر چلو
گُلچیں کے سدّ باب سے انکار ہے کسے
لیکن اصولِ نشو و نما دیکھ کر چلو
کچھ سرپھروں کو ذکرِ وفا بھی ہے ناگوار
یہ انحطاطِ مہر و وفا دیکھ کر چلو
ہاں انفرادیت بھی بُری چیز تو نہیں
چلنا اگر ہے سب سے جدا دیکھ کر چلو
آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو ہر شے ہے بے نقاب
اے بندگانِ حرص و ہوا دیکھ کر چلو
ذوقِ عبودیت ہو کہ گستاخیِ نگاہ
تخمینۂ جزا و سزا دیکھ کر چلو
ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو
دیکھو بلند و پست فضا دیکھ کر چلو
یہ تو بجا کہ ذوقِ سفر ہے ثبوتِ زیست
اس دشت میں سموم و صبا دیکھ کر چلو
عرفان و آگہی بھی عبادت سہی مگر
طرز و طریقِ اہلِ وفا دیکھ کر چلو
اسبابِ ظاہری پہ بھی درکار ہے نظر
با وصف اعتمادِ خدا دیکھ کر چلو
ممکن ہے روحِ سرو و سمن سے ہو ساز باز
کیا دے گئی گلوں کو صبا دیکھ کر چلو
ہر کشمکش نہیں ہے امینِ سکونِ دل
ہر موت میں نہیں ہے بقا دیکھ کر چلو
ہر لحظہ ہے پیمبرِ اندیشہ و عمل
کیا چاہتا ہے رنگِ فضا دیکھ کر چلو
یہ بھی روش نہ ہو رہِ مقصود کے خلاف
آئی ہے یہ کدھر سے صدا "دیکھ کر چلو”
ہمدرد بن کے دشمنِ دانش ہوئے ہیں لوگ
یہ بھی ہے دوستی کی ادا دیکھ کر چلو
احسان دانش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے