حسرت اُن غنچوں پہ

حسرت اُن غنچوں پہ…. ۔ سجاد خالد

ایک صاحب نے سرِ راہ انکشاف کیا کہ اُنہیں ہم اچھے لگے ہیں سو وہ عزت افزائی محسوس کریں گے اگر ہماری دوستی ہو جائے۔ ہم اِس ناگہانی آفت کے لئے ہرگز تیار نہ تھے سو بات گھما پھرا کر کہیں اور لے گئے جسے اُن سے ہماری بے تکلفی پر محمول کر کے رضامندی سمجھ لیا گیا۔ یہ احساس ہوتے ہی ہم اپنے حواس برقرار نہ رکھ پائے اور بد تمیزی پر اُتر آئے ۔ہمیں کہیں یہ اُمید بھی تھی کہ موصوف اِس ذلت کو ترکِ تعلق کی بنیاد بنائیں گے۔ فرمانے لگے’یہ ہوئی نہ بات، میں تو سچی دوستی میں تُوتکار اور گالی گلوچ کو لازم سمجھتا ہوں‘۔ ہم نے اُن کی جانب سے کسی ممکنہ نجی ، خاندانی یا پیشہ ورانہ گالی کے خوف سے فوراً بے تکلفی اختیار کرتے ہوئے اُنہیں بہلانے کی کوشش کی جو ٹھیک نشانے پر لگی اور موصوف صرف ’تیری تو ۔۔۔۔۔۔۔‘ کہہ کر رُک گئے۔ ہماری خفت کو محسوس کرتے ہوئے گویا ہوئے ’ابھی نئے ہو، سب سمجھ جاﺅ گے‘۔ ہم آج بھی خاموشی کے ساتھ یہ جاننے کی تمنا کرتے ہیں کہ ماہرین ِ فن اپنی بات کا آغاز ’تیرا تو۔۔۔‘ یا ’آپ کے تو۔۔۔‘ سے کیوں نہیں کر پائے۔ شاید ایک وجہ صدیوں سے معطل ہونے والی اجتہاد کی روایت ہو۔

بچپن کے دوست میرے خیال میں آپ کے مستقبل کے لئے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ کسی بزنس میٹنگ میں اپنی کمپنی کی نمائندگی کرتے ہوئے قدرے شائستگی اور رعب سے گفتگو کر رہے ہوں۔لوگ متاثر ہوتے ہوئے پورے انہماک سے آپ کی بات سن رہے ہوں۔ چائے کے وقفے میں ہوٹل کے بینکوئٹ ہال کی ہلکی پھلکی موسیقی کے پس منظر میں آپ کے متاثرین (ظاہر ہے کہ اِن میں خواتین کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، اگر آپ اتفاق سے صنف ِ غیر نازک ہوں) آپ سے واقفیت بڑھانے کے لئے سوالات کر رہے ہوں تو ایسا لگتا ہے زندگی کا حقیقی مقصد تو یہ محفل تھی نہ کہ پانچ بچوں کو ضعیف موٹر سائیکل پر اُن کی وجہ پیدائش سمیت دھوپ اور رش میں لاد کر بھدّی سی خالہ کے گھر چھوڑ کر آنا یا سستے اتوار بازار سے گلے سڑے پھلوں کی بُو ، اور بے ہنگم آوازوں کے پس منظر میں مہنگی سبزیوں کے تھیلے موٹر سائیکل کے ہینڈل سے لٹکا کرڈولتے ہوئے پھر اُسی پہلے والے گھر واپس پہنچنا۔

عزت افزائی کے عین عروج پر ایک آواز آپ کے کانوں اور ایک ہاتھ آپ کے کندھوں سے بیک وقت ٹکراتے ہیں ۔ ’اوئے سجاد، تووووووں، اوئے کتھے مر گیا سی‘(ابے سجاد، تم؟ ابے کہاں مر گئے تھے؟)۔ ہم باوقار انداز میں کھسیانے ہونے کی کوشش میں مڑے تو ایک کم بخت ہم سے مخاطب تھا جسے پہچاننے سے زیادہ تلف کرنے کی شدید اور آخری تمنا پیدا ہو گئی تھی۔ اگر آپ نے ٹائی ٹے نِک میں موجود نا قابلِ فراموش جوڑے کو خودفراموشی کی حالت میں دیکھا ہو اور اُنہی لمحوں میں چٹان سے جہاز کا ٹکرانا یاد ہو تو آپ میرے دُکھ میں شریک ہو سکتے ہیں۔

یہ موذی انسان موقعے کا فائدہ اُٹھانے کے ماہر اور ذلت افزائی میں مردِ کامل ہوتے ہیں۔اِن کے ہاتھوں ہونے والے نقصان، فراعینِ مصر، نمرود ، ابلیس اور سسرالی رشتہ داروں سے زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ سانپ اِن کو دیکھ کر اپنی بلوں میں ریفریش ہوتے، لومڑیاں اِن کا نام سُن کر پوری خشیئت کے ساتھ ایمان ِمفصل پڑھتیں اور نیوز چینلوں کے منہ پھٹ میزبان گھبراہٹ میں بریک لے لیتے ہیں۔ ہم کیا اور ہمارا شوربا کیا۔ ڈراپ سین تھا اور ہم اُسی خبیث کے ہمراہ اِس حال میں وہاں سے نکلے کہ ایک سرخوشی اُس کے مزاج میں اور ایک شادی مرگ ہمارے رگ و پے میں دوڑ رہی تھی۔ ایک عجیب سی حسرت جسے مولانا حسرت موہانی اور چراغ حسن حسرت بھی نہ سمجھ سکے لیکن اقبال بلند ہو شاعر مشرق، مغرب ، شمال اور جنوب کا کہ فرمایا:

حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کھلے مرجھا گئے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے