حسرتِ وصل ملی لمحۂ بیکار کے ساتھ

حسرتِ وصل ملی لمحۂ بیکار کے ساتھ
بخت سویا ہے مرا دیدۂ بیدار کے ساتھ
اے مرے دوست! ذرا دیکھ، میں ہارا تو نہیں
میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ
وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں
کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ
ایک احساس پسِ حرفِ تسلی اس کا
کاش وہ گھاؤ لگاتا مجھے تلوار کے ساتھ
نہ کوئی خندہ بلب ہے نہ کوئی گریہ کناں
تیرا دیوانہ پڑا ہے تری دیوار کے ساتھ
ایک آشوب نگر ہوں میں درونِ خانہ
ایک ماتم بھی ہے شامل مرے اشعار کے ساتھ
کیوں وہ انگشت بدنداں ہے مری حیرت پر
میں تو آئینہ ہوا نرگسِ بیمار کے ساتھ
بر لبِ ناز، گلِ حرفِ دعا میرے لیے
اے فلک دیکھ مجھے چشمِ گہر بار کے ساتھ
سعدؔ یہ عشق معمہ ہے مری ہستی کا
کوئی ظاہر ہوا مجھ پر مگر اسرار کے ساتھ
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے