حاصل ہوا نہ کچھ کبھی تقدیر کے بغیر

حاصل ہوا نہ کچھ کبھی تقدیر کے بغیر
مجھ کو ملے تھے خواب بھی تعبیر کے بغیر
کیا جانیے کہ کتنا پریشاں کیا مجھے
اُس خواب نے جو مجھ میں تھا زنجیر کے بغیر
میں چاہتا تھا جیت لے وہ زندگی کی جنگ
میدان میں کھڑا تھا میں شمشیر کے بغیر
میری خموشیوں سے مرا حال جانتا
پہچانتا کوئی مجھے تصویر کے بغیر
کچھ اس لیے بھی آنکھ ترے بعد بجھ گئی
جلتا نہیں دیا کوئی تنویر کے بغیر
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے