حاشیہ

حاشیہ

کسی رات کی تیرگی سے نکالا ہوا راستہ ہوں
سیاہ حاشیہ ہوں
سیاہی کہ جو بیکراں کائناتوں کا ملبوس پہنے ستارےجنے گی
سیاہی کہ جس کے سیاہ ریشمی پلووں پر کرن اور گوٹی کا بخیہ لگا کر سیا ہے
مہارت سے صبح کا ستارہ کسی نے
سیاہ حاشیہ ہوں جو بپھرے ہوئے
پانیوں کو جدائی کے ساحل میں جب روکتا ہے
تو کتنے تھپیڑوں کو سہتا ہے خود پر
تمہیں کیا خبر کیسے گرتی لڑھکتی ہوئی زندگی کو اُٹھاتی رہی ہوُں
کہاں کس طرح خود سے خود کو بچاتی رہی ہُوں
تمیں کیا خبر کہ میں کیا سوچتی ہوں
مجھے تم نے اک بار جنما تھا اور اب مکاں در مکاں میں ہزاروں برس سے تمیں جَن رہی ہوں
کبھی ایسے لگتا ہے میں حاشیہ ہوں
مرا کوئی مطلب نہ معنی
نہ صورت کی لیلا
کبھی ایسے لگتا ہے جیسے کہ میں اک مسلسل بہاوُ میں ہُوں اور زمانوں کی تحدید بندی پہ مامور ہوں
اِک کنارے پہ رہنے کو مجبور ہوں
۔۔۔
شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے