خشت و گل

خشت و گل
نوح کی کشتی میرے گھر کی دیوار کے ساتھ آلگی ہے۔ اور اب دھیرے دھیرے بڑھتی ہوئی صدر دروازے تک آرہی ہے۔۔۔ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو نوح لے کر چلے تھے۔۔۔ ایک ایک کرکے تمام چیزیں اتارلی جائیں گی اور اس کے بدلے میں وہ سب کچھ لاد دیا جائے گا جو ہم نے دہلیز پر اکٹھا کر رکھا ہے۔۔۔ سب کچھ طے ہوگیا ہے۔ بس اب یہ پوچھنا باقی ہے کہ نوح پھر کب آئیں گے؟
سبھی کچھ ہے سوائے نوح کے۔۔۔ اور نوح کا انتظار ہو رہاہے۔ پھر کشتی روانہ ہوجائے گی۔۔۔ کالاسمندر ویسے ہی میرے گھر کی دیواروں کے ساتھ سر ٹکرانے لگے گا اور اس کی زخمی سانسیں ویسے ہی سنائی دینے لگیں گی۔۔۔ کالا سمندر اداس ہے اور اسی طرح اداسی میں سر جھکائے پاؤں پاؤں صندل کے پاؤں پہاڑی راستے ہوتاہوااپنے گاؤں چلاجائےگا۔
ہر راستہ اس کے گاؤں کی طرف جاتا ہے۔ ہر گاؤں میں بے شمار پگڈنڈیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ جن پر انتظار کے پاؤں کےنشان کھدے ہوئے ہیں۔ پگڈنڈیاں میرے گھر کو جاتی ہے۔ اور ہر گھر میں ’میں‘ بیٹھا دہلیز پر سامان اکٹھا کر رہا ہوں، جو نوح کی کشتی میں رکھا جانا ہے اور نوح کے آجانے پر سب طے ہوجائے گا۔
گاؤں میں ہر طرف تاریکی ہے۔ اسی تاریکی میں کوئی سایہ ہماری طرف بڑھتا ہے وہ شاید گاؤں کاچوکیدار ہے، جو ہمیں خبردار کرناچاہتا ہے،تاکہ ہم کچھ کھو نہ دیں اور اپنے مال و متاع پر کڑی نظر رکھیں۔ جب وہ ہمیں خبردارکر رہاہوگا، تو کوئی بھوراسایہ دبے پاؤں اس کے گھر میں گھس جائے گا اور اسکاسب کچھ لوٹ لے گا۔ اس کی بیوی کے لمبے کیشوں میں اپنی انگلیاں پھرائے گا۔ نتھنوں سے ان کو سونگھے گا۔ ہونٹوں سے اس کے رخساروں کو چومےگا، اور وہ سوکھی ہوئی ٹہنی کی طرح ٹوٹ کر آگرے گی، اور سب کچھ بھیگ جائے گا۔ تاریکی کالے سمندر سے نچڑتی ہوئی نکلے گی اور کارخانوں میں بنا ہوا لاکھوں گز کپڑا اسے اپنے آغوش میں بھرلے گا۔
کپڑے پر پسینے کی ایک ندی بہی چلی جارہی ہے جو گاؤں کے کھیتوں کو سیراب کرتی ہے۔ نوح کی کشتی میں انھیں کھیتوں میں اگی ہوئی اناج کی بالیاں تھیں جن کےبدلے اب کساٹا آئس کریم رکھی جائے گی۔
کساٹا آئیس کریم کھانے کے لیے جو چیونٹی آگے بڑھ رہی تھی وہ میرے پاؤں کے نیچے آگئی ہے۔ میں اس چیونٹی کی تصویر بنا چکا ہوں۔ اس میں ہر رنگ بھر دیا ہے، مگر ’وہ‘ کہہ رہاہے۔ ابھی ایک رنگ باقی ہے۔ چھوٹی سی چیونٹی کی اتنی بڑی تصویر میں ابھی ایک رنگ باقی ہے۔ میں اور چیونٹی دونوں کساٹا آئیس کریم کھانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتاہے، دونوں اپنے اپنے مقدر کا لے لو۔ تاکہ یہ رقابت ختم ہو۔ میں شرمندہ ہوں، اگر نوح آکر دیکھیں کہ میں ابھی تک چیونٹی کی تصویر بھی مکمل نہیں کرپایا، تو وہ کیا سوچیں گے؟ میں نے اس کی بات مان لی ہے، ہم دونوں اپنے اپنے مقدر کا بانٹ لیں گے اور رنگ مکمل طور پر بولنے لگیں گے۔ نیلے رنگ کی زبان مجھے اچھی نہیں لگتی، مگر پھر بھی میں نے اسے بولنےکے لیے کہہ دیا ہے۔ اور یہی وہ رنگ ہے جو سب سےزیادہ بولتاہے۔ کبھی بچے کی معصوم زبان میں اور کبھی جوان لڑکی کی تیکھی زبان میں اور مجھے اپنے آغوش میں کھینچے لیتا ہے۔
میں بے بس ہوں، ایسا لگتاہے جیسے میری کھال بہت چکنی ہے جس پر سے ہر چیز پھسلتی ہوئی نکل جاتی ہے اور پھر بکھر کر تین حصوں میں بٹ جاتی ہے۔۔۔ برھما، وشنو، مہیش، میری ساری سرشٹی ان تین بھائیوں نے بانٹ لی ہے۔ اور میرے تین ٹکڑے کرکے تین مندروں کی ڈیوڑھیوں میں کھڑے کردیے ہیں۔
میں ان دیوتاؤں کے سلسلے میں بالکل غیرجانب دار رہناچاہتاہوں۔ مگر جب ان کا آپس میں یدھ ہوتا ہے تو میں مرجاتاہوں۔ جب میں مرتاہوں تو ان کے مندر کھنڈت ہوجاتے ہیں پھر وہ میرے پاس بدھ بن کر آتے ہیں اور مجھے نیا مندر بنانے کے لیے کہتے ہیں۔
جب مندربن جاتا ہے اور اس کے ستونوں پر میں اپنی محبوبہ کے ننگے انگ ابھارتا ہوں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور پھر قہقہے لگاتے ہوئے ان مندروں پر یلغار کرتے ہیں۔ اور مجھے عیسٰی بناکر میری صلیب کے نیچے بدھ کی ٹوٹی ہوئی مورتی رکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔
میں نے اپنا مندر کھنڈت کرلیا ہے اور میری ٹوٹی ہوئی مورتی بدھ کی ٹوٹی ہوئی مورتی کے ساتھ کارنس پر سجی ہوئی ہے۔۔۔ کالا گول ماضی چپٹے کالے سمندرمیں دھیرے دھیرے ڈوبا جارہا ہے۔۔۔ پہلے پانی اس کے ٹخنوں تک آتا ہے پھر گھٹنوں تک، پھر کمر تک، پھر سینے تک، پھر اس کا سر بھی ڈوب جاتا ہے۔ اور وہ اپنا ہاتھ اوپر فضامیں بلند کردیتاہے اور اب صرف انگلیاں ہلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں،اور دور دور تک کالا سمندر قہقہہ زن ہے۔
کالے سمندر سے نیلے سمندر تک پائپ لائن لے جانے کا منصوبہ بناکر میں اپنے مکان کی چھت پر آگیا ہوں۔۔۔ پیاس کی وجہ سے میری انتڑیاں سکڑی جارہی ہیں، اور میرے پاس پینے کے لیے ایک بوند بھی پانی نہیں ہے۔۔۔ میرا خیال ہے جب پائپ لائن نیلے سمندر کی طرف بڑھ رہی ہوگی تو میں اسے چھید کر اپنے لیے ایک گلاس پانی نکال لوں گا، اور پھر اس میں انناس کا رس ٹپکاؤں گا۔۔۔ یا اور کچھ بھی۔۔۔ اورجب پینے لگوں گاتو میرا بچہ ہمک کر وہ گلاس میرے ہاتھ سے چھین لے گا۔
’’میرا بچہ!‘‘
’’جی ہاں۔۔۔!‘‘ میں نے ہی اپنی بیوی کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ گلاس پھر میرے ہاتھ میں آگیا ہے۔ میں اسے پینے کے لیے پیدا ہوا ہوں۔
ساراسامان اکٹھا ہوگیا۔ گلاس کارنس پر پڑا رنگ بدلنے کا منتظر ہے۔ سارا سامان لدےگا۔ یہ بندوقیں بھی اور یہ کانٹے دار پودابھی۔۔۔ لیکن ٹھہرو۔۔۔ یہ ٹائم پیس اتارلو۔ اسےکشتی میں نوح سےپوچھ کر رکھیں گے۔
سب کچھ تیار ہے بس اب نوح کا انتظار ہو رہاہے۔ ان کےآتے ہی کشتی روانہ ہوجائے گی۔ پھر ان سے یہ تو پوچھ ہی لیناچاہیے کہ اب وہ پھر کب آئیں گے۔
سب طے ہوگیا ہے۔ اب صرف نوح سے پوچھنا باقی ہے، اور پگھلتی ہوئی کساٹا آئیس کریم رکھنارہ گیا ہے۔ پھر کشتی چل پڑے گی اور کالاسمندر پہاڑی راستے سے ہوتاہوا اپنے گاؤں چلاجائے گا۔
سریندر پرکاش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے