حشر کیسا بھی ہو برپا نہیں دیکھا جاتا

حشر کیسا بھی ہو برپا نہیں دیکھا جاتا
یار اب ہم سے تماشا نہیں دیکھا جاتا
ایسے برزخ سے تڑپنا ہی کہیں بہتر تھا
دل کو محرومِ تمنا نہیں دیکھا جاتا
خوف آتا ہے تو بس خواب کی بے خوفی سے
ورنہ اس آنکھ سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا
ان کی ہستی کی نمو ہے مری بربادی میں
ناصحوں سے مجھے اچھا نہیں دیکھا جاتا
فاصلہ رکھ کے سرِ راہ ملا کر دشمن
دوستوں سے ہمیں یکجا نہیں دیکھا جاتا
ترکِ الفت ہی سہی ، ترکِ تعلق ہی سہی
پھر بھی اپنوں کو پرایا نہیں دیکھا جاتا
ہجر دشوار مسافت ہے مگر یاد رہے
یہ وہ غم ہے کہ جو تنہا نہیں دیکھا جاتا
نقش آنکھوں میں ہے محبوب کی صورت ورنہ
ہم سے اس شہر کا نقشہ نہیں دیکھا جاتا
ایسی شدت سے ہمیں وقت نے بدلا ہے سعید
آئینہ اب نہیں دیکھا ، نہیں دیکھا جاتا
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے