حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے
تو کیوں اندیشۂ تشنہ لبی معلوم ہوتی ہے
تمہاری گفتگو سے آس کی خوشبو چھلکتی ہے
جہاں تم ہو وہاں پہ زندگی معلوم ہوتی ہے
ستارے مثل جگنو زائچے میں رقص کرتے ہیں
ذرا سی دیر میں کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے
جہاں پر ایک جوگن مست ہو کر گنگناتی ہے
اسی ساحل پہ اک گرتی ندی معلوم ہوتی ہے
اداسی زلف کھولے گی دنوں کی یاد میں گم ہے
شعور‌ گل کو فکر تشنگی معلوم ہوتی ہے
جہاں پہ پھول کھلتا ہے سنورتا ہے بکھرتا ہے
اسی شاخ محبت پہ کلی معلوم ہوتی ہے
ستاتی ہے تمہاری یاد جب مجھ کو شب ہجراں
مجھے خود اپنی ہستی اجنبی معلوم ہوتی ہے
تمہارے لمس کو میں جب کبھی محسوس کرتا ہوں
بہت ہلکی سہی اک روشنی معلوم ہوتی ہے
فنا ہونا اندھیری رات کی تقدیر ہے عالمؔ
مجھے یہ بے بسی بھی زندگی معلوم ہوتی ہے
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے