حرف و صوت و صدا سے ملوایا

حرف و صوت و صدا سے ملوایا
ماں نے مجھ کو خدا سے ملوایا
طاق پر ٹمٹما رہی تھی میں
زندگی نے ہوا سے ملوایا
بند کرنی پڑی کتابِ عشق
ہائے کِس آشنا سے ملوایا
رکھ رکھائو کی زندگی نے ہمیں
اپنی جھوٹی انا سے ملوایا
ناخدا کو دعائیں دیتی ہوں
جس نے مجھ کو خدا سے ملوایا
فرحت زاہِد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے