حرفِ ندارد

حرفِ ندارد

احمد ہمیش

تمہارے اختیار میں میرے بے اختیاربرسوں کی کالی نیند کے سواکیا ہوگا

گزرِ گاہ دل پر تو اب بھی سناٹاہے

راگ الاپ رہے ہیں طیورِ انالحق

آواز کے چاروں ستون تعمیر کے آغاز سے خالی ہیں

چلارہے ہیں بے آواز سکےّ

کیونکہ وہ اصحابِ کہف سے لے کے اجازت لے کے آئے تھے

ر ہ گئی حراق جو آسمانی بجلی ہی ہے

مگر وہ نہ تو عیار عورتوں کو پھونک سکتی ہے

نہ وہ ذاتِ مرد کا کچھ بگاڑسکتی ہے

توانائی کا ایک پری وار تو سری کرشن کا تھا

جو اب کہیں باقی نہیں

جس گھڑی موت آئے گی

گردِ ذات کو کہیں نہ کہیں تو اُڑالے جائے گی

آخر پردۃ بکارت اور پردۃ زنگاری میں کیا فرق ہے

کوئی فرق ہوگا بھی تو اب کس کام کا

جسے محبت لاحق نہیں ہوئی

وہ کیسے رازِ عبود کو سمجھے گا

نابود کا اگر کوئی سر ہوگا بھی تو اُس پر کلغی تو نہیں ہوگی

ہواکو چلنے دو

کہ اگر وہ کسی طرح اورکہیں چل رہی ہے تو

غنیمت جانو

ورنہ وہ دن دور نہیں کہ حرکت کے قانون

میں جونک لگ جائے گی

اور یہ جونک کسی بھی خون کو چوس ڈالے گی

خدا سے بے پروا اپنا قانون نافذکرے گی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے