Har Waqt Fikar E Marg

ہر وقت فکرِمرگِ غریبانہ چاہیئے
صحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیئے

دنیا ئے بے طریق میں جس سمت بھی چلو
رستے میں اک سلامِ رفیقانہ چاہیئے

آنکھوں میں اُمڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھ
ایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہیئے

کیا پستیوں کی ذلتیں، کیا عظمتوں کے فوز
اپنے لیے عزابِ جُداگانہ چاہیئے

اب دردِشش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
اب کیا ہو، اب تونیند کو آ جانا چاہیئے

روشن ترائیوں سے اُترتی ہوا میں آج
دو چار گام لغزشِ مستانہ چاہیئے

امجد، ان اَشکبار زمانوں کے واسطے
اِک ساعتِ بہار کا نذرانہ چاہیئے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے