ہر طرف رونقیں ہیں ، میلے ہیں

ہر طرف رونقیں ہیں ، میلے ہیں
اور ہم شہر میں اکیلے ہیں

من کا مرہم کہیں نہیں بکتا
سو دکانیں ، ہزار ٹھیلے ہیں

زہر کھانے کی بھی نہیں فرصت
وہ بکھیڑے ہیں ، وہ جھمیلے ہیں

بعد میں ہوگئے بڑے دونوں
صرف بچپن میں ساتھ کھیلے ہیں

یہ نہیں دیکھتا وہ نکتہ نواز
کس نے پاپڑ زیادہ بیلے ہیں

دشمنوں کے علاوہ ہم نے شعور
دوستوں کے ستم بھی جھیلے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے