ہر طرف ریت کا اجارا ہے

ہر طرف ریت کا اجارا ہے
یعنی صحرا میں بھی خسارا ہے
رہ گئے ہیں ہم آدھے شاخوں پر
اس نے یوں کھینچ کر اتارا ہے
پاؤں دھو جا ہماری مٹی پر
ان زمینوں کا پانی کھارا ہے
ہم پڑے رہ گئے ہیں تہہ میں کہیں
آپ نے خود کو یوں نتھارا ہے
جان پر بن گئی ہے خوشبو کی
تو نے گلدان کیا سنوارا ہے
آئنہ قحط میں ہوا ایجاد
خود پرستی کا استعارا ہے
وقت کے بھاؤ بڑھ گئے ہیں منیر
زندگی کا عجب گزارا ہے
منیر جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے