ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے
کیا کہیں ساحل سے کوئی رابطہ پانی کا ہے
خشک رت میں اس جگہ ہم نے بنایا تھا مکان
یہ نہیں معلوم تھا یہ راستہ پانی کا ہے
آگ سی گرمی اگر تیرے بدن میں ہے تو ہو
دیکھ میرے خون میں بھی ولولہ پانی کا ہے
ایک سوہنی ہی نہیں ڈوبی مری بستی میں تو
ہر محبت کا مقدر سانحہ پانی کا ہے
بے گنہ بھی ڈوب جاتے ہیں گنہ گاروں کے ساتھ
شہر کے قانون میں یہ ضابطہ پانی کا ہے
جانتا ہوں کیوں تمہارے باغ میں کھلتے ہیں پھول
بات محنت کی نہیں یہ معجزہ پانی کا ہے
اشک بہتے بھی نہیں عاصمؔ ٹھہرتے بھی نہیں
کیا مسافت ہے یہ کیسا قافلہ پانی کا ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے