Har Jazba-E-Gham

ہر جذبۂ غم کی تلخی میں اک مستی پنہاں دیکھیں گے

جو گردشِ دوراں دیکھ چکے کیا گردشِ دوراں دیکھیں گے

ہر بار ہماری جانب سے تجدیدِ محبت کیا معنی

اک دن تری نیچی نظروں کا خود سلسلہ جنباں دیکھیں گے

سمجھے تھے کہ تو اے پردہ نشیں ادراک و یقین کی حد میں نہیں

لیکن یہ خبر کیا تھی کہ تجھے نزدیک رگِ جاں دیکھیں گے

اے ہم نفسو مایوس نہ ہو ، ٹوٹا ہو طلسم قیدِ نفس

اک بار ذرا پھر مل جل کر کہہ دو کہ گلستاں دیکھیں گے

محسوس کچھ ایسا ہوتا ہے ، دنیا کو سمجھ کر رشکِ ارم

جیسے کوئی مجھ سے کہتا ہو، پھر لعزشِ انساں دیکھیں گے

سب رونقِ گلشن خاک ہوئی لیکن نہ گئی پھولوں کی ہنسی

شائد یہ انہیں خوش فہمی ہے پھر فصلِ بہاراں دیکھیں گے

ہے خواہش لطف بے پایاں ، لیکن یہ کوئی اُن سے کہہ دے

تکمیل طلب منظور نہیں ، ہم وسعتِ داماں دیکھیں گے

ہے اُن کو طلب منظور تو دل ہر جلوے کا مسکن بن جائے

اس گھر کو وہ اپنا سمجھیں گے جس گھر میں چراغاں دیکھیں گے

تجدیدِ وفا کے سائے میں نیند آ ہی گئی دیوانوں کو

محسوس کچھ ایسا ہوتا ہے ، پھر خوابِ پریشاں دیکھیں گے

شکیلؔ بدایونی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے