ہر ایک سمت اندھیرا ہے

ہر ایک سمت اندھیرا ہے , بےبسی ہے نا
گزارا کرنا ہی پڑتا ہے زندگی ہے نا

میں جانتا ہوں کہ ہیں محترم سبھی اصحاب
تو جانتا ہے کہ ان میں, علی , علی ہے نا

کبھی کبھار تجھے مجھ پہ پیار آتا ہے
کبھی کبھار مرے بارے سوچتی ہے نا

چراغ چاند نہ جگنو سفر طویل مگر
پرائی یاد کی ہمراز روشنی ہے نا

خدا تلک جو رسائی نہیں تو کیا غم ہے
یہ کم نہیں ہے کہ اک آسرا نبی ہے نا

پھر ایک بار میں خنجر گلے پہ رکھتا ہوں
پھر ایک آنکھ مرا ہاتھ روکتی ہے نا

مری اداسی اذیت کو پیرہن کر کے
تمہارے شہر کی گلیوں میں گھومتی ہے نا

گھٹن الجھتی ہے دیوار کی دراڑوں سے
تو گرد ہجر کی کھڑکی کو کھولتی ہے نا

یہ تیری آنکھ بتاتی ہے رات بھر یونہی
بلا جواز ابھی تک تو جاگتی ہے نا

ابھی یہاں پہ محبت کی بات مت کرنا
ہوائے شہر ابھی دوست وحشتی ہے نا

یقیں نگلتی ہے ڈائن کسی پرندے کا
شجر کی شاخ کوئی وہم نوچتی ہے نا

غبار سینچتی آواز کے بھروسے پر
ہماری خامشی اک راز کھولتی ہے نا

پھر ایکبار مجھے عشق ہو گیا ارشاد
پھر ایکبار مری جان پر بنی ہے نا

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے