Haqeeqat-E-Gham-E-Ulfat

حقیقتِ غمِ اُلفت چھپا رہا ہوں میں

شکستہِ دل ہوں ، مگر مُسکرا رہا ہوں میں

کمال حوصلۂ دل دکھا رہا ہوں میں

کسی سےرسمِ محبت بڑھا ہوں میں

بدل دیا ہے محبت نے اُن کا طرزِ عمل

اب ان میں شانِ تکلف سی پا رہا ہوں میں

مچل مچل کے میں کہتا ہوں بیٹھیے تو سہی

سبنھل سبنھل کے وہ کہتے ہیں جا رہا ہوں میں

سُنی ہوئی سی بس اک دھُن ضرور لب پر ہے

یہ خود خبر نہیں کیا گنگنا رہا ہوں میں

شکیلؔ بدایونی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے