ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں

ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں
چھوٹے چھوٹے جذبے اچھے لگتے ہیں
چاندی جیسی دھوپ میں تار پہ ٹنگے ہوئے
رنگ برنگے کپڑے اچھے لگتے ہیں
جس برگد کے نیچے گوتم بیٹھا ہو
اس برگد کے سائے اچھے لگتے ہیں
شہر سے دور اک چھوٹی سی بستی والے
وہ جن کو گل بوٹے اچھے لگتے ہیں
شیش محل میں رہنے والی لڑکی کو
کھلے ہوئے دروازے اچھے لگتے ہیں
کافی شاپ کی باہر والی ٹیبل پر
دونوں ساتھ میں بیٹھے اچھے لگتے ہیں
گھوم گھما کر ساری دنیا میں تجدید
واپس آتے رستے اچھے لگتے ہیں
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے