ہنوذ دِلّی دُور است

"ہنوذ دِلّی دُور است”

تاریخ گواہ ھے کہ راجہ پورس اور سکندر کی لڑائی 326 ق-م کے بعد تقسیم شدہ پنجاب (پاکستانی) کی سرزمین پر حملہ آوران/قابضین کیخلاف جو حتمی لڑائی لڑی گئی وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1818 عیسوی میں لڑی. بیچ کے 2144 برس ملتان کی اکا دکا جھڑپوں میں شکست یا آپسی جھگڑوں کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر معرکہ اس خطے کے لوگوں نے بیرونی حملہ آوروں کیخلاف نہیں لڑا بلکہ "ہنوذ دِلّی دُور است” کا نعرہِ مستانہ لگا کر اور بیرونی حملہ آوروں کو خراج، گھوڑے، سپاہی اور سامانِ رسد دیکر ناں صرف راجدھانی دِلّی پر حملے میں انکے ھم رکاب ہوئے بلکہ لمبی جاگیریں اور القابات سمیٹے۔ یہی وجہ ھے کہ تقسیمِ ہند کے وقت ہندوستانی پنجاب کے تاریخ سے بہرہ مند لوگوں نے "نسل در نسل غداروں کی سرزمین سے حتمی جان چھُوٹنے پر جھولیاں اُٹھا کر اپنے اپنے بھگوان شُکر ادا کیا۔ انکی جان تو چھُوٹ گئی لیکن ہماری جان شکنجے میں آ گئی۔

آزادی کیساتھ ہی غداروں کی یہ اولادیں سابقہ آجر کی رائل انڈین آرمی کے تربیت یافتاوں کے ہاتھوں پر بیعت ہوئیں اور آجدن تک انکے اشاروں پر حکومت حکومت کھیل رہی ہیں۔ 1958 میں آمر کی گودی چڑھنے والے یہ نجس جاگیردار بھُٹو صاحب کی گُڈی چڑھی تو انکے آجُو باجُو مٹکنے لگے اور انکے اقتدار کا سُورج غروب ہوتے ہی واپس آمریت کی چھتری تلے اکٹھے ہو گئے۔ بھٹو صاحب نے کیونکہ انکے اجداد کے بنائے ذات پات کے مقروہ معاشی چکر کو چیرنے کی کوشش کی تھی لہذا انکی اکثریت پھر کبھی پیپلزپارٹی کے جھنڈے تلے واپس نہیں آئی۔ انہوں نے جونیجو کو سپورٹ کیا، نواز شریف کے پیچھے دُم ہلائی، قاف کی ناف چُوسی اور پھر اقتدار کی خاطر آصف زرداری کے تلوے چاٹے، 2013 میں بدماشیہ کے اشارے پر یہ سو ڈیڑھ سو خاندان نواز شریف کے ہمرکاب ہوئے اور سورج غروب ہوتے ہی تحریکِ انصاف کا پٹہ گلے میں ڈال لیا۔

یہی لوگ بدماشیہ کی وہ قوت ہیں جسے آگے پیچھے کر کے ہماری 71 سالہ غلامی کی تاریخ لکھی گئی۔ حقیقت میں یہی لوگ بدماشیہ کے آشیر باد سے اقتدارِ اعلی کے حصہ دار بنے بیٹھے ہیں جن کے چُنگل سے اس معاشرے کو آزاد کروائے بغیر حقیقی انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان کی راجہ پورس کیبعد کی 2300 سال سے زیادہ تاریخ میں ہر ہیرونی حملہ آور کو ویلکم کر کے اپنے مفادات کی سند لینے والے اور دھرتی ماں (ہندوستان) سے غداری کرنے والے چند خاندانوں کی غداری ہی وجہ ھے کہ پاکستان ازاد ہونے کے باوجود ھم نے چالیس سال آمریئت کے پنجوں میں گزار دیئے اور آج بھی بائس کروڑ لوگوں کے فکری، معاشی و سماجی استحسال کا کارن یہی لوگ ہیں۔ پیلزپارٹی کیونکہ پچھلے 51 برس سے بدماشیہ سے دست بدست نبرد آزماء ھے لہذا اسکی بیخ کنی کیلئے یہ گماشتے بدماشیہ کی ہر عوام مخالف سیلیکٹڈ_کٹھ پُتلی کے ھم نوالہ ھم پیالہ بن جاتے ہیں۔ انکے پنجے اتنے گہرے ہیں کہ یہ اپنے اپنے علاقوں سے آزاد منتخب ہو کر بھی اقتدار کے ایوانوں میں آ دھمکتے ہیں اور دِلّی گو بھارت میں رہ گئی ھے لیکن پاکستان کے بائس کروڑ لوگوں کی قابض بدماشیہ کے چُنگل سے مکمل آزادی کے خواب کی بات آئے تو ٹھٹھہ لگاتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ

ہنوذ دِلّی دُور است

علی عبد اللہ ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے