ہمیں پتہ نہیں چلتا مگر پکارتے ہیں

ہمیں پتہ نہیں چلتا مگر پکارتے ہیں
اگر پرند نہ لوٹیں شجر پکارتے ہیں
یہ دیکھنے کو سمندر نہ چل پڑے گھر سے
وہ کیسی آنکھ ہے جس کو گہر پکارتے ہیں
خوشی کا کوئی بھی لمحہ ہو میرے یار مجھے
میں جس طرف نہیں ہوتا ادھر پکارتے ہیں
لگائیں گے کسی طائر کو اس ریاضت پر
بہار سنتی نہیں ہم اگر پکارتے ہیں
کیا ہے رقص سمندر پہ اس قدر میں نے
کہ میرے نام سے مجھ کو بھنور پکارتے ہیں
کوئی تو دور کرے ان کی بھی غلط فہمی
مجسمہ ہے جسے کم نظر پکارتے ہیں
گھرا ہوا ہے مصیبت میں شہر۔خواب مرا
مکین چیختے ہیں بام ودر پکارتے ہیں
بھلے نہ رکھے کوئی بھی منڈیر پر آنکھیں
چراغ بانٹنے والے مگر پکارتے ہیں
کبیر باندھ کے رکھا ہے چاند نے ورنہ
کئی ستارے مجھے رات بھر پکارتے ہیں
کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے