حمید قیصر

حمید قیصر کا مختصر تعارف

حمید قیصرکا نام اردو کے جدید افسانوی ادب میں معتبر سمجھا جاتا ہے۔انہیں اپنے پہلے مجموعے ”سیڑھیوں والا پل“ کی بدولت علمی و ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔حمید قیصر کا یہ مجموعہ پہلی بار 1996ء میں شائع ہوا جبکہ اسکی دوسری بار اشاعت2000ء میں عمل میں آئی۔ حمید قیصر کا دوسراافسانوی مجموعہ”دوسرا آخری خط“ 2011 میں شائع ہوا ہے۔حمید قیصر 7 مارچ1960ء کو ضلع میانوالی کے ایک سرحدی قصبے ”کالاباغ“ میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد کا نام حاجی عبدالعزیز ہے۔آپکا تعلق بلوچوں کے رندقبیلے سے ہے۔آپ نے میٹرک 1976 میں گورنمنٹ ہائی سکول کالا باغ سے کیا۔1977 ء میں آپ کے خاندان نے سیاسی و سماجی وجوہات کی وجہ سے کالا باغ کو خیر باد کہہ کہ کر اسلام آبادمیں مستقل سکونت اختیارکرلی۔Hameed Qaiserآپ نے بعدازاں پرائیویٹ طورپرراولپنڈی ڈویژن سے سیکنڈ ڈویژن میں ایف اے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے فسٹ ڈویژن میں بی اے کیا۔ حمید قیصر نے کالا باغ کے سماجی پس منظر میں چند کہانیاں بھی لکھیں جو ان کے پہلے افسانوی مجموعے”سیڑھیوں والا پل“ میں شامل ہیں۔
آپ نے 1981ء میں اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔وہاں سے آپ 1983ء میں وزارت ثقافت و سیاحت کے محکمہ لوک ورثہ کے شعبہ مطبوعات میں چلے گئے۔ 1988ء میں دوبارہ اکادمی ادبیات پاکستان میں ”پرنٹنگ انچارج“مقرر ہوئے اوربہترین کارکردگی کی بنا پر1992ء میں سرکولیشن مینیجر کے عہدہ تک ترقی پائی۔ پھر اگست میں 2000 انکی کتاب ”سیڑھیوں والا پل“ کی لندن میں تقریب رونمائی ہوئی۔ واپس آکر انھوں نے طویل رخصت لیکر برطانیہ میں قیام کا فیصلہ کر لیا۔
چنانچہ جولائی 2004ء میں حمید قیصر نے برطانیہ اور پاکستان سے انگریزی و اردو میں سہ ماہی مجلہ ”تادیب انٹرنیشنل“ کا اجراء کیا جسکے اب تک 15 شمارے ہو چکے ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود مجلہ ”تادیب انٹرنیشنل“ وقفے وقفے سے شائع ہوتا ہے۔ منٹو صدی کے حوالے سے تادیب کے منٹو نمبر کی تدوین مکمل ہو چکی ہے۔ حمید قیصر نے 2009ء میں مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد کے صدر نشین کے افسر تعلقات عامہ اور ماہر مضمون کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔اس حیثیت سے میرا جی،ن۔م راشد،فیض احمدفیض اور سعادت حسن منٹو جیسے ممتاز اہل قلم کے صد سالہ جشن ولادت کے سلسلے میں چار ضخیم کتابوں کی طباعت مکمل کی اور درجنوں علمی و ادبی تقریبات کے انعقاد میں معاونت کی۔2011 ء میں این ایل اے کا منصو بہ ختم ہونے کے بعد حمید قیصر نے بہت سے اخبارات اور ایڈورٹائیزنگ ایجنسیوں میں تخلیقی کام کیئے اور ساتھ ساتھ ”تادیب“ کے عنوان سے روزنامہ ”پاکستان“،”نوائے وقت“اور”الشرق“ میں ہفتہ وار کالم اور روزنامہ جنگ کے”سنڈے میگزین“میں مضامین لکھنے شروع کر دیئے۔ علاوہ ازیں ایک آن لائن انگریزی۔ اُردو اخبار ”میڈیا ٹوڈے یو ایس اے“ کے ساتھ بیورو چیف کی حیثیت سے منسلک ہوگئے۔
انہوں نے ساڑھے چھ سال تک ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی انگریزی و اردو ویب ڈیسک، چینلFM-93 ، صوت القرآن اور ایکسٹرنل سروس کے ساتھ بطور سپروائزر، ریسرچر اور سکرپٹ رائیٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کالاباغ کے تاریخی، سیاسی، سماجی و ثقافتی پس منظر میں ایک ناول بھی لکھنا شروع کر دیا ہے۔ جس کا نام”ایک تھی بستی کالاباغ“ تجویز ہوا ہے۔یوں حمید قیصر کا ادبی، ثقافتی و تخلیقی سفر ہر دم رواں دواں ہے۔حمید قیصر کا کہنا ہے کہ اللہ مجھے اتنی مہلت عطاء فرمادے کہ میں کالاباغ کی مٹی کا قرض ناول مکمل کرکے اتار سکوں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے