حمد

حمد لکھی ہے ابھی ابھی۔ آزاد نظم ہے۔
بھگت کبیر کی لفظیات کا اثر ہے۔ پہلا اور آخری مصرعہ کبیر کا ہے۔
حمد
” کہے کبیر سنو بھائی سادھو، یہ کچھ اگم کہانی رے”
صاحب تو ذرے ذرے میں رہتا ہے۔
وہ شعلے میں بولتا ہے
وہ پروا کے پر کھولتا ہے
وہ ٹھہرے پانی میں رکتا ہے اور چلتے میں بہتا ہے۔
صاحب تو ذرے ذرے میں رہتا ہے۔
ساگر میلوں گہرا ہے
تہ کی کالی روشنی میں رنگیلی مچھلی چلتی ہے
تو دور آکاش کے نیل کے اوپر لہریں جاگنے لگتی ہیں۔
صاحب کی میزان برابر رہتی ہے۔
اک سینے کی کالی شب میں کاگ اڈاری بھرتا ہے
تو دوسرے سینے کی شاخوں پر راج ہنس جھٹکارتا ہے۔
کس نے کہا پیدا کرتا ہے؟
کس نے کہا کہ مارتا ہے؟؟
صاحب کی میزان برابر رہتی ہے۔
اک ماٹی کی گیان گپھا میں ہاڑ برادہ ہوتے ہیں
تو
دوسری ماٹی سے ست رنگی پھول نکلنے لگتے ہیں۔
شاخ کے چند مساموں میں کمخوابی پتے سوتے ہیں
تو
چند مساموں سے جگ راتی سول نکلنے لگتے ہیں۔
ہر آن برابر رہتی ہے
صاحب کی میزان برابر رہتی ہے۔
فرصت میں مصروف بہت ہے۔
ہم کو شکلیں، سیاروں کو ثقلیں بانٹتا رہتا ہے۔
وقت تراشتا رہتا ہے
پھر ریت سے ذرے چنتا ہے۔
انتر یامی سب جانت ہے
کس شہتوت پہ کون سا کیڑا کس کا ریشم بنتا ہے۔
” کیڑی کے پگ نیور باجے، سو بھی صاحب سنتا ہے۔”
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے