ہم دونوں کب اپنے تھے

ہم دونوں کب اپنے تھے

یاد ہے تم کو میں نے تم سے
سارے موسم بانٹے تھے
یاد ہے تم کو میں نے اپنا
ہر اک روپ دِکھایا تھا
اپنی ذات کے ہر اِک جھوٹ سے
ہر سچ سے مِلوایا تھا
چائے کے اِک کپ سے لے کر
ساون کی بارش کے پہلے قطرے تک
اپنے سنگ تمہیں رکھا تھا
اپنے سنگ تمہیں پایا تھا
یاد ہے تم کو، تم سے مل کر
میں کیسے کھل اُٹھتی تھی
تم سے من کی باتیں کر کے
کتنی خوش ہو جاتی تھی
تم کو یاد یقیناً ہو گا
وہ جو افسانوں کو پڑھ کر
تم سے بحث ہوا کرتی تھی
کیسی کیسی بے تُکی سی باتوں پر
محفل دیر تلک سجتی تھی
لمبے لمبے خطوں میں اپنے
چھوٹے چھوٹے جھگڑے تھے
سب سے نرالے خواب تھے اپنے
سب سے اچھوتے سپنے تھے
ہاں وہ شاید خواب تھے سارے
ہاں وہ شاید سپنے تھے
ہم دونوں تھے غیر ازل سے
ہم دونوں کب اپنے تھے

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے