حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا

حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا
طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا
اس مہ سے دل کی لاگ وہی متصل رہی
گو چرخ نے بہ صورت ظاہر جدا رکھا
گڑوا دیا ہو مار کر اک دو کو تو کہوں
کب ان نے خون کر نہ کسو کا دبا رکھا
ٹک میں لگا تھا اس نمکی شوخ کے گلے
چھاتی کے میرے زخموں نے برسوں مزہ رکھا
کاہے کو آئے چوٹ کوئی دل پہ شیخ کے
اس بوالہوس نے اپنے تئیں تو بچا رکھا
ہم سر ہی جاتے عشق میں اکثر سنا کیے
اس راہ خوفناک میں کیوں تم نے پا رکھا
آزار دل نہیں ہے کسو دین میں درست
کیا جانوں ان بتوں نے ستم کیوں روا رکھا
کیا میں ہی محو چشمک انجم ہوں خلق کو
اس مہ نے ایک جھمکی دکھاکر لگا رکھا
کیا زہر چشم یار کو کوئی بیاں کرے
جس کی طرف نگاہ کی اس کو سلا رکھا
ہر چند شعر میر کا دل معتقد نہ تھا
پر اس غزل کو ہم نے بھی سن کر لکھا رکھا
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے