حالات کے گھماؤ سے یکبار بک گئے

حالات کے گھماؤ سے یکبار بک گئے
کم ظرف لوگ تھے سرِ بازار بک گئے

جب مسئلہ نہ حل ہوا بیٹی کی فیس کا
مزدور باپ کے سبھی اوزار بک گئے

معیار ایک شخص کے چہرے کا دیکھ کر
تصویر کے کبھار بھی ھر بار بک گئے

پشتیں کھنگال کر مجھے پھر دیکھنا پڑا
جب ایک ایک کر کے مرے یار بک گئے

تعبیر کو لباس میں لانے کے بعد بھی
کچھ خواب میری آنکھ کے بیکار بک گئے

رانا عثمان احامر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے