ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں

ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں
نظر کے سائے ذرا ہٹا لو کہ عقل کی سانس گھٹ رہی ہے
ہٹو ہٹو میں کشاکش روزگار پر غور کر رہا ہوں
بھٹک رہا ہے خیال سود و زیاں کے پر پیچ راستوں میں
کہاں کی منزل ابھی تو گردو غبار پر غور کر رہا ہوں
میں کتنا بیباک ہو گیا ہوں مجھے سزا دو چمن پرستو!
بہار کہتے ہو تم جسے اس بہار پر غور کر رہا ہوں
بدل رہا ہے کچھ اس طرح ان کے عہد و پیماں کا رنگ باقیؔ
کیا تھا کل اعتبار آج اعتبار پر غور کر رہا ہوں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے