حیرتِ پرتوِ مہتاب سے باہر نکلا

حیرتِ پرتوِ مہتاب سے باہر نکلا
آنکھ کھلتے ہی میں اک خواب سے باہر نکلا
خاک برباد ہوئی ہے تو اُڑی پھرتی ہے
کب کوئی عالمِ اسباب سے باہر نکلا
زہرناکی مرے ماحول کو مجھ ہی سے ملی
میں کہاں منظرِ شاداب سے باہر نکلا
وہ زمیں بوس ہوا اور ہوا خاک میں خاک
جو ستارا کہ تب و تاب سے باہر نکلا
میں خلاؤں سے پلٹ آیا ہوں اور سوچتا ہوں
کچھ نہیں حسرتِ نایاب سے باہر نکلا
اک سلگتی سی تمنا کا دھواں ہے دل میں
بس یہی دیدۂ تلخاب سے باہر نکلا
شہپرِ خوف کا سایہ ہے ابھی تک سر پر
سعدؔ کب قریۂ خونناب سے باہر نکلا
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے