خیمے ، لہو ، نوکِ سناں

خیمے ، لہو ، نوکِ سناں
عہدِ وفا کی داستاں
اے ہم سفر! رکنا نہیں
چلتا رہے یہ کارواں
میں عشق میں کرتا رہا
نادانیاں ، گستاخیاں
چھیڑو کسی نغمے کی لے
جاگے کوئی جادُو بیاں
نخلِ وفا کی شاخ سے
اُٹھتا رہا نیلا دھواں
ناصر اُسے اچھی لگیں
تیری سبھی ناکامیاں
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے