ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز

ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز
کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز
کب تک کھنچے گی صبح قیامت کی شام کو
عرصے میں میں کھڑا ہوں گنہگار سا ہنوز
مدت ہوئی کہ خون جگر میں نہیں ولے
جاتا ہے آنسوئوں کا چلا تار سا ہنوز
سایہ سا آگیا تھا نظر اس کا ایک دن
مبہوت میں پھروں ہوں پری دار سا ہنوز
برسوں سے گل چمن میں نکلتے ہیں رنگ رنگ
نکلا نہیں ہے ایک رخ یار سا ہنوز
دیکھا تھا خانہ باغ میں پھرتے اسے کہیں
گل حیرتی ہے صورت دیوار سا ہنوز
مدت سے ترک عشق کیا میر نے ولے
زار و زبون و زرد ہے بیمار سا ہنوز
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے