ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھُل کھیلو

پر ہم سے قسم لے لو کہ ہو جو شکایت بھی

خود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا لے گی

اے حُسن حیا پر ور شوخی بھی شرارت بھی

عُشّاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازک

نازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی

اے شوق کی بے باکی وہ کیا تری خواہش تھی

جس پر انہیں غصّہ ہے انکار بھی حیرت بھی

حسرت موہانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے