ہےآپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ

ہےآپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ
قربان گئے اس پہ دل وجان وغیرہ
بلی تویونہی مفت میں بد نام ہوئی ہے
تھیلے میں توکچھ اور تھا سامان وغیرہ
بےحرص وغرض فرض ادا کیجئے اپنا
جس طرح پولس کرتی ہے چالان وغیرہ
اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے
اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوزان وغیرہ
ہر شرٹ کو بشرٹ بنا ڈالی ہے انور
یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ ​
انور مسعود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے