گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے

گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے
دامن وقت یوں ہی مجھ سے چھٹا جاتا ہے
میں اجالے کو محبت کا خدا لکھتا ہوں
وہ اندھیرے ہی سے مانوس ہوا جاتا ہے
جس کی خوشبو سے فضاؤں میں مہک تھی شب بھر
صبح دم اس کی طرف سانپ بڑھا جاتا ہے
مجھ کو ڈر ہے کوئی عابد نہ بہک جائے کہیں
دل ربا چاند کا انداز ہوا جاتا ہے
دور رہ کر بھی رگ جاں سے لپٹ جاتے ہیں
اور اس دل میں اجالا سا ہوا جاتا ہے
اس قدر زہر پلایا مجھے اس نے عالمؔ
تلخی زیست کا احساس مٹا جاتا ہے
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے