گزارش

گزارش
یہ کس نے عکسِ گلاب کو
کسی تازہ تازہ شباب کو
کیا قید اپنی نگاہ میں
رہے چاہتوں کی پناہ میں
کہ یہ نیم بازی ء چشم نم
رہے فتنہ ساز چلے جامِ جم
نہ رہیں خداراسہم سہم
کریں بے وفائی نہیں کوئی غم
رہے ہوش سے نہیں رابطہ
یہ نیا نیا سا ہے راستہ
کیوں یہ چوڑیوں کا شور ہے
نہیں دل پہ اب کوئی زور ہے
کھلی زلف سانسں مہک گئی
جلی پور پور دہک گئی
کسی چشمِ ناز سے چوم کر
کسی بے خودی میں جھوم کر
کسی مہرباں پہ شکوک ہیں؟
ابھی چھوڑدیں
یہ جو دل بندھا ہے ضبط سے
اسے توڑ دیں
کہ یہ ہی تو ہیں وہ ساعتیں
جنہیں زیر کر کے دوام ہے
مری خلوتوں کے بانکپن
اسی دلربائی کے نام ہیں
کبھی غور کر کے تو دیکھیے
مری بات میں
بجز آپ کے تو کوئی نہیں
میری ذات میں
مرے صبر کو نہ اور آزمائیے
چلیں چھوڑیئے ناں جناب من
یہ حجاب اب ہٹائیے
مرے دل کی آرزو کہیں
یا اپنی خواہشیں انہیں
گلے سے اب لگائیے
خدارا مان جائیے
سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے