گزر ہی جائے گی شب ، رابطہ نہیں کرنا

گزر ہی جائے گی شب ، رابطہ نہیں کرنا
یہ میری ضد ہے ، کہ اب رابطہ نہیں کرنا
پرائے دیس میں کیا عید ؟ اور خوشی کیسی؟
کہ میرے اپنوں نے جب رابطہ نہیں کرنا
بڑا شجر ہوں میں گھر کا سو جانتا ہوں میاں
کسی پرند نے اب رابطہ نہیں کرنا
مجھے یہ علم ہے کس وقت خود سے ملنا ہے
مجھے خبر ہے کہ کب رابطہ نہیں کرنا
تمہی بتاؤ مجھے، دوست ایسے ہوتے ہیں ؟؟
کہ جب ضروری ہو تب رابطہ نہیں کرنا
بجز تمہارے بھی کچھ کام مجھ پہ واجب ہیں
سخن سے تخلیہ ، اب رابطہ نہیں کرنا
بہنام احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے